حولان الحول کے بعد اپنی ضروریات میں مال خرچ کرنے سے زکوٰۃ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #253Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص کو جنوری میں سال ختم ہونے پر ۰۰۰، ۸۰ رینڈ کی زکوٰۃ دینا تھی، لیکن اس وقت اس نے ادا نہیں کی، اور کچھ رقم اپنی ضروریات میں خرچ کر لی، اب اس کے پاس فقط ۲۸۰۰۰ رینڈ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ۰۰۰، ۸۰ رینڈ کی زکوٰۃ دے یا ۲۸۰۰۰ رینڈ کی؟ بینوا توجروا ۔

Answer

سال گزر جانے کے بعد مال کم ہونے کے بارے میں بنیادی بات یہ ہے اگر مال کا کچھ حصہ ہلاک ہو جائے تو اس کے بقدر زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے، لیکن اگر اپنی ضروریات میں خرچ کر دیاتو کل مال کی زکوٰۃ ادا کرنی لازم ہو گی، چنانچہ صورت مسئولہ میں ۰۰۰، ۸۰ رینڈ کی زکوٰۃ ادا کرے ۔
بطورِ تنبیہ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں قمری سال کا اعتبار ہو گا شمسی سال کا اعتبار نہیں ہوگا، لہٰذا قمری سال کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے ورنہ ہر تین سال میں ایک مہینہ کم ہوگا اور ۳۳ یا ۳٦ سال میں ایک سال کی زکوٰۃ ذمہ میں باقی رہ جائے گی ۔
دلائل ملاحظہ فرمائیں ؛ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں مذکور ہے:

ولا يضمن الزكاة مفرط غير متلف فهلاك المال بعد الحول يسقط الواجب وهلاك البعض حصته ويصرف الهالك إلى العفو، قوله غير متلف: لو أتلفه فإنه يضمن لوجود التعدي، قوله يسقط الواجب: لتعلقه بالعين لا بالذمة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۱۸، قديمي).
وقال في البحر الرائق: وقيد بالهلاك؛ لأنه لو استهلكه بعد الحول لا تسقط عنه لوجود التعدي. (البحر الرائق: ۲/۲۳۵، ط: دار المعرفة).
وقال العلامة الشامي في منحة الخالق: قوله وقيد بالهلاك؛ لأنه لو استهلكه، أقول: المراد بالاستهلاك إخراج النصاب عن ملكه قصداً بلا بدل يقوم مقامه فاستبدال مال التجارة بمال التجارة ليس باستهلاك لقيام الثاني مقام الأول؛ لأن الزكاة لم تتعلق بعينه. (منحة الخالق حاشية البحر الرائق: ۲/۲۳۵، ط: دار المعرفة).

فتاوی حقانیہ میں مرقوم ہے:
جب نصاب پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو جائے گی لیکن اگر کسی شخص نے ابھی تک زکوٰۃ ادا نہ کی ہو اور سارا مال مکان کی تعمیر یا اور کسی ضرورت میں خرچ کیا تو اس کے ذمے زکوٰۃ دینا باقی ہے، مال کو اس طرح خرچ کرنے سے زکوٰۃ ساقط نہ ہو گی ۔ البتہ اگر مال ہلاک یا تباہ ہو جائے جس میں مزکی کا ہاتھ نہ ہو تو اس صورت میں زکوٰۃ ساقط ہے،
لما قال الشيخ عبد الحي اللكنوي رحمه الله:
زکوٰۃ ذمہ پر ہے، خزانۃ الروایات میں عتابیہ سے منقول ہے:
إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة عنه وإن استهلكه ضمن الزكاة في ذمته والاستهلاك إخراج النصاب عن ملكه. (
فتاوی حقانیہ: ۳/۵۳۲) ۔
زکوٰۃ کی ادائیگی میں حولان الحول کے لیے قمری سال کا اعتبار ہے ۔
ملاحظہ البحر الرائق میں مذکور ہے:

وفي القنية العبرة في الزكاة للحول القمري. (البحر الرائق: ۲/۲۱۹، دار المعرفة).
وفي الدر المختار: وحولها أي الزكاة قمري بحر عن القنية لا شمسي، وسيجيء الفرق في العنين. وفي رد المحتار: وعبارته مع المتن: وأجل سنة قمرية بالأهلة على المذهب وهي ثلاثمائة وأربع وخمسون وبعض يوم وقيل شمسية بالأيام وهي أزيد بأحد عشر يوماً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۹۵، سعيد). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۵، وفتاوى الشامي: ۲/۲۵۹، سعيد، ونور الإيضاح، كتاب الزكاة).
وقال في السفر الطويل: وكل ثلاث وثلاثين سنة شمسية تساوي أربعاً وثلاثين سنة قمرية. (السفر الطويل إلى تحقيق يوم ولادة الرسول صلى الله عليه وسلم، للشيخ محمد الأمين سليم الفرضي، ص ۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.