میقات تجاوز کرنے کے بعد واپس آنے پر قضا اور دم کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #310Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک عورت نے عمرہ کیا، پھر زیارت کے لیے طائف گئی، جب واپس آئی تو عمرہ کی نیت نہیں کی اس لیے کہ طبیعت صحیح نہیں تھی، اب وہ گھر واپس آ گئی، اب اس عورت پر کیا لازم ہوگا؟ دم ہوگا یا نہیں؟

Answer

واضح ہو کہ طائف میقات سے باہر ہے، لہٰذا طائف زیارت کے لیے جانے والے حجاج و معتمرین جب واپس مکہ مکرمہ کے ارادے سے داخل ہوں گے تو احرام باندھنا اور عمرہ کرنا لازم ہوگا، بلا احرام میقات سے تجاوز کرنا گناہ ہے اور واپس نہ آنے پر دم لازم ہوگا لیکن چونکہ مذکورہ خاتون بلا عمرہ ادا کیے واپس لوٹ گئی تو اب ایک عمرہ کی قضا واجب ہو گی اور جب احرام باندھ کر واپس آئے گی تو دم ساقط ہو جائے گا ۔
دلائل ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:

جاء رجل إلى ابن عباس رضي الله عنه فقال: إني جاوزت الميقات من غير إحرام، فقال: ارجع إلى الميقات ولب، وإلا فلا حج لك، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: لا يجاوز الميقات أحد إلا محرماً ولأن وجوب الإحرام على من يريد الحج والعمرة عند دخول مكة لإظهار شرف تلك البقعة وفي هذا المعنى من يريد النسك ومن لا يريد النسك سواء فليس لأحد ممن يريد دخول مكة أن يجاوز الميقات إلا محرماً. (المبسوط: ٤/۳۰۲، ط: دار الفكر بيروت).
البحر الرائق
میں مذکور ہے:
من جاوز آخر المواقيت بغير إحرام ثم عاد إليه وهو محرم ولبى فيه فقد سقط عنه الدم الذي لزمه بالمجاوزة بغير إحرام لأنه قد تدارك ما فاته. (البحر الرائق: ۳/۵۱، دار المعرفة).
وقال في غنية الناسك: من جاوز وقته غير محرم ثم أحرم أولا فعليه العود إلى وقت وإن لم يعد فعليه دم، فإن لم يحرم وعاد بعد تحول السنة أو قبله فأحرم بما لزمه بالمجاوزة من الميقات سقط الإثم والدم بالاتفاق

ولو دخلها مراراً بلا إحرام فعليه لكل دخول حج أو عمرة. (غنية الناسك، ص ۳۰، ۳۱، ط: إدارة القرآن، كراتشي).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
اگر کوئی آفاقی شخص مکہ یا سرزمین حرم میں بلا احرام داخل ہو گیا تو اس پر ایک حج یا عمرہ کرنا واجب ہوگا یا اس کو میقات پر واپس آ کر احرام باندھنا واجب ہوگا، پس اگر اس نے اس سال یا اس سال کے بعد مکہ مکرمہ یا اس سے باہر لیکن میقات کے اندر کسی جگہ سے احرام باندھ لیا تو وہ احرام کافی ہے اور اس پر دمِ مجازات واجب ہوگا، اور اگر اس نے احرام باندھنے کے بعد کسی میقات پر لبیک کہہ لیا تو اس سے دمِ مجاوزت بھی ساقط ہو جائے گا، پس اگر وہ اسی سال کسی میقات پر لوٹ آیا اور حج فرض، قضا یا ادا عمرہ یا حج نذر یا عمرہ قضا یا عمرہ سنت یا عمرہ مستحب کا احرام باندھ لیا تو بلا احرام داخل ہونے کی وجہ سے جو غیر متعین حج یا عمرہ اس پر واجب ہوا تھا ساقط ہو جائے گا اور اسی طرح بلا احرام میقات سے گزر جانے کا جو دم اس پر واجب ہوا تھا وہ میقات پر احرام باندھ کر تلبیہ کہنے سے اس کے ذمے سے اتر جائے گا ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۱۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.