شوہر کے بھائی کے ساتھ ایک مکان میں رہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #338Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص اپنے مکان میں اپنے بھائی کو بھی رکھتا ہے، اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ مکان چھوٹا ہے اور میرے لیے پریشانی کی بات ہے، جب کہ وہ کچھ کام نہیں کرتا پورا دن گھر میں رہتا ہے، پورا دن پر دہ بھی مشکل ہے تواب کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بیوی کے ساتھ ایک مکان میں بھائی کو رکھنا جب کہ مکان بہت چھوٹا ہوا و رفتنہ کا اندیشہ بھی ہو، درست نہیں، بلکہ اس کو حکمت کے ساتھ سمجھانا چاہیے ۔ حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے:

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ، قال: إياكم والدخول على النساء فقال رجل من الأنصار يا رسول الله! أفرأيت الحمو، قال: الحمو، الموت. (رواه البخاري: ۲/۷۸۷، باب لا يخلون رجل بامرأة، ومسلم: ۲/۲۱٦).

حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا، تو ایک انصاری صحابی نے پوچھا اللہ کے رسول، دیور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: دیور تو موت ہے ۔ یعنی اس سے اور زیادہ بچنا چاہیے ۔

وفي فتح الباري: الحمو أخو الزوج، وما أشبهه من أقارب الزوج ابن العم ونحوه، قال الترمذي: يقال هو أخو الزوج، كره له أن يخلو بها

وجرت العادة بالتساهل فيه فيخلو الأخ بامرأة أخيه فشبهه بالموت وهو أولي بالمنع من الأجنبي

وقال عياض: معناه أن الخلوة بالأحماء مؤدية إلى الفتنة والهلاك في الدين فجعله كهلاك الموت وأورد الكلام مورد التغليظ. (فتح الباري: ۹/۳۳۱). وللمزيد راجع: (عمدة القاري: ۱٤/۲۰۷، وتكملة فتح الملهم: ٤/۲۷۲، ومرقاة المفاتيح: ٦/۱۹٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.