طلاق کے بعد بچی کو باپ سے دور رکھنے کا حکم:
Question
میاں بیوی کے درمیان کسی وجہ سے طلاق ہو گئی، ان کی ایک چار سالہ بچی ہے، اب عورت نے دوسری شادی کر لی اور اپنے شوہر اور بچی کے ساتھ دوسرے ملک کا سفر کر لیا جہاں بچی کے باپ کی رسائی نہیں ہے، کیا بچی کی ماں کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟ برائے کرم اس کا حکم واضح فرمائیے ۔
Answer
بچی ۹ سال تک ماں کی پر ورش میں رہے گی، اور اس درمیان باپ جب چاہے بچی سے ملاقات کر سکتا ہے، بچی کو اس کے باپ کی رضامندی کے بغیر دوسرے ملک لے جانا جائز نہیں ہے، بچی کو باپ سے جدا کر دینا ظلم ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا أرادت المطلقة أن تخرج بولدها من المصر فليس لها ذلك لما فيه من الإضرار بالأب إلا أن تخرج به إلى وطنها وقد كان الزوج تزوجها فيه لأنه التزم المقام فيه عرفاً وشرعاً. قال عليه الصلاة والسلام: من تأهل ببلدة فهو منهم ولهذا يصير الحربي به ذمياً، وإن أرادت الخروج إلى مصر غير وطنها وقد كان التزوج فيه أشار في الكتاب إلى أنه ليس لها ذلك. (الهداية ۲/۳۸، المكتبة الإسلامية).
وفي مبسوط الإمام السرخسي رحمه الله: فإن وقعت الفرقة بينهما وانقضت عدتها فإن كان أصل النكاح في المصر الذي هي فيه فليس لها أن تخرج بولدها إلى مصر آخر لما فيه من الإضرار بالزوج بقطع ولده عنه إلا أن يكون بين المصرين قرب بحيث لو خرج الزوج لمطالعة الولد أمكنه الرجوع إلى منزله قبل الليل فحينئذٍ هذا بمنزلة محال مختلفة في مصر ولها أن تتحول من محلة إلى محلة. (المبسوط: ٦/۳۰۵، ط: بيروت). (وكذا في لسان الحكام، ص ۳۳٤، ط: القاهرة، وتبيين الحقائق: ۳/۵۰، ط: إمداديه، ملتان).
وفي خزانة الفقه: والمطلقة البائنة خرجت بولدها إلى موضع يقدر الزوج أن يزور ولده في يومه لها ذلك، وإن خرجت إلى موضع لم يقدر الزوج أن يزور في يومه لم يجز. (خزانة الفقه، ص ۳۲٤).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
پرورش کے زمانہ میں باپ اگر اپنی اولاد سے ملنا چاہے تو ملنے کا موقع دینا چاہیے، اسی کی اولاد ہے، ملاقات کا موقع نہ دینا ظلم ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/٤۵۸، ط: دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.