بیع کی قانونی کاروائی مکمل ہونے تک بائع کا مشتری سے کرایہ وصول کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #433Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک شخص نے مکان خریدا، بائع کے کہنے پر مشتری نے پوری قیمت وکیل کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی، وکیل نے مشتری سے کہا کہ آپ مکان میں رہ سکتے ہیں لیکن جب تک قانونی کاروائی مکمل نہ ہو جائے وہاں تک آپ کو مکان کا کرایہ ادا کرنا ہو گا ادا کرنا ہو گا ۔ کیا یہ کرایہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز وکیل نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ آپ کی رقم بینک میں رکھ دی جائے گی اور جو سود حاصل ہو گا اسی سے کرایہ ادا کر دیا جائے گا، کیا یہ صورت جائز ہے؟ بینوا بالدلیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جب عقد مکمل ہو گیا اور مشتری نے قیمت ادا کر دی تو مشتری مکان کا مالک بن گیا اس کے بعد مشتری سے کرایہ لینا جائز نہیں ہے، شریعت میں بیع کی تکمیل کا مدار قانونی دستاویزات پر نہیں ہے، اس کے بغیر ایجاب و قبول پر بیع مکمل ہو جاتی ہے، اور بائع کے وکیل کا رقم کو سودی کھاتا میں رکھ کر سود حاصل کرنا جائز نہیں، اگر بینک میں سود کا چھوڑنا مناسب نہ ہو تو بائع یا اس کا وکیل سود کی رقم بلا نیتِ ثواب فقراء پر تقسیم کر دے ۔ لیکن مشتری کے منع کرنے کے باوجود اگر وکیل اپنے طور پر سود وصول کر کے کرایہ لیتا ہے تو وکیل خود اس کا ذمہ دار ہے ۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں:

قال في الهداية: وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية. (الهداية: ۳/۲۰).

مجمع الانہر میں مرقوم ہے:

وإذا وجد الإيجاب والقبول من المتعاقدين لزم البيع وفيه إشارة إلى أن البيع يتم بهما ولا يحتاج إلى القبض ولا إلى إجازة البائع بعدهما وهو الصحيح بلا خيار مجلس إلا من عيب أو عدم رؤية. (مجمع الأنهر: ۳/۱۱، دار الكتب العلمية، بيروت).
وقال في الشامية: لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ولا يأخذون منه شيئاً وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵).

نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
اصل ضابطہ یہ ہے کہ جو بھی حرام مال ہو اس کے بارے میں اصل حکم یہی ہے کہ جس کا مال ہے اس کی ملک میں کسی تدبیر سے لوٹا دینا، اور جب اصل مالک کی ملک میں نہ پہنچا سکے تو اس کے وبال سے بچنے کی نیت سے بطورِ صدقہ کسی مستحق صدقہ کو دے کر جلد از جلد اپنی ملک سے خارج کر دے اور خود کسی کام میں استعمال نہ کرے اور نہ اس کو صدقہ میں دینے کے بعد ثواب کی نیت کرے ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۱۸۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.