بلیک فرائیڈے (Black Friday) کے دن تجارت میں حصہ لینے کا حکم:
Question
میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ بلیک فرائیڈے میں مسلمان تجارت میں حصہ نہیں لیتے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مسلمان اِس دن تجارت میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
بلیک فرائیڈے امریکہ میں یومِ شکریہ (نومبر کی آخری جمعرات) کے بعد جمعہ کو منایا جاتا ہے جو ایک غیر رسمی نام ہے (یعنی جس کا رسم و رواج یا عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں)، اور یہ دن ۱۹۵۲ ء کے بعد سے امریکہ میں کرسمس کی خریداری کے موسم کا آغاز سمجھا جاتا ہے، جب کہ یہ اصطلاح زیادہ پرانی نہیں ہے، اِس دن تجارت کے مراکز میں عام طور پر قیمتوں میں ترخیص اور کمی کی جاتی ہے، اور یہ دن خریداری کا مصروف ترین دن سمجھا جاتا ہے ۔ بلیک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس دن تاجروں کو خوب منافع حاصل ہوتے ہیں، اور تاجروں کی اصطلاح میں بلیک منافع کی علامت ہے اور سرخ نقصان اور خسارے کی نشانی ہے ۔ (ملخص از ویکی پیڈیا) ۔
مسلمان بلیک (Black) کے لفظ سے یہ نیت کرے کہ چونکہ رات کے اندھیرے سے یہ تجارت شروع ہو جاتی ہے اور لوگوں کو جلدی جانا پڑتا ہے اس لیے اس کا نام بلیک فرائیڈے ہے ۔
اِس دن تجارت میں حصہ لینا مسلمانوں کے لیے جائز اور درست ہے اس میں کوئی خرابی نہیں، اور نہ کوئی غلط عقیدہ یا کوئی مذہبی شعار اس سے منسلک ہے ۔ اس دن تاجروں کا قیمت میں رعایت دینا بھی درست ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع ويجوز أن يحط عن الثمن. (الهداية: ۳/۵۹).
قال في العناية: قال ويجوز للمشتري أن يزيد البائع في الثمن، إذا اشتري عيناً بمائة ثم زاد عشرة مثلاً أو باع عيناً بمائة ثم زاد على المبيع شيئاً أو حط بعض الثمن جاز. (العناية: ٦/۵۱۹).
فتاوی شامی میں منقول ہے:
ثم ذكر حط الثمن وهبته وإبراء ه، وحاصل ما ذكره في البحر عن الذخيرة: أنه لو وهبه بعض الثمن أو أبرأه عنه قبل القبض فهو حط، وإن حط البعض أو وهبه بعد القبض صح، ووجب عليه للمشتري مثل ذلك. (فتاوى الشامي: ۵/۱۵٦، سعيد).
اہم مسائل جن میں ابتلاء عام ہے، مذکور ہے:
آج کل عموماً بڑے مارکیٹ میں تجارت کے فروغ و عروج کے لیے " ڈسکاؤنٹ " کا طریقہ رائج ہے، مثلاً دکان میں ہر سامان پر کچھ ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے، یعنی اگر کسی سامان کی قیمت ایک ہزار ہے، تو اس پر پچیس فیصد ڈسکاؤنٹ، یعنی وہ سامان اب گاہک کو صرف سات سو پچھتر میں دیا جائے گا، خرید و فروخت کی یہ مروجہ صورت شرعاً درست ہے ۔ (اہم مسائل جن میں ابتلاء عام ہے: ۸/۲۲۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.