بٹ کائن (Bitcoin) کرنسی سے خرید و فروخت کرنے کا حکم:
Question
آج کل مارکیٹ میں ایک کرنسی عروج پر ہے جس کو بٹ کائن کرنسی کہتے ہیں، میں اس کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں، نیز اس سے تجارت کرنے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بٹ کائن کرنسی کے بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں:
۱ ۔ بٹ کائن رقم کی ادائیگی کے لیے ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے، یعنی ایک غیر مرئی سکہ ہے ۔
۲ ۔ بٹ کائن انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے نقد رقم کی طرح ہے ۔
۳ ۔ بٹ کائن نیٹ ورک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کوئی ملک یا ادارہ اس کا مالک نہیں اور نہ اس کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ استعمال کرنے والے کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے اگر وہ ضائع ہو جائے تو کوئی ملک یا کوئی ادارہ اس کا بدل نہیں دے سکتا ۔
٤ ۔ بٹ کائن برقی آلہ میں محفوظ ہوتا ہے، یہ اسی وقت ضائع ہو سکتا ہے جب وہ برقی آلہ خراب ہو جائے اور صحیح ہونے کی کوئی امید نہ ہو یا گم ہو جائے یا کوڈ بھول جائے ۔
۵ ۔ بٹ کائن کرنسی نمبرات کی شکل میں ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر وجود میں آئی ۔
٦ ۔ اس کرنسی کی قیمت کا تعین طلب ورسد کی آزادی کے سپرد کیا گیا، جس کی وجہ سے ابتدا میں اس کی قیمت ایک ڈالر سے بہت کم تھی، مگر بعد میں اُتار، چڑھاؤ سے گزرتے ہوے اب اس کی قیمت پانچ ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے ۔
۷ ۔ بعض مغربی ممالک میں ٹیکسوں کی حصولی، نجی حسابات اور اس کرنسی کی نگرانی کے لیے جزوی طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جب کہ بعض دیگر ممالک میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
۸ ۔ کسی بھی ملک کی باقاعدہ نگرانی نہ ہونے اور اس کرنسی میں اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر اس کرنسی کے تحت طے پانے والے معاملات کرنے والے اداروں کو کئی بار تنبیہ کی جا چکی ہے ۔
فقہی نقطہ نظر سے بٹ کائن سے معاملہ کرنے کے جواز و عدمِ جواز کا حکم اور اس کے دلائل:
بٹ کائن کو اگر حکومت تسلیم نہ کرے اور اس پر تعامل نہ ہو تو ثمن نہیں ہے اس سے معاملہ کرنے کی اجازت نہ ہو گی، اور اگر حکومت نے تسلیم کر لیا ہو اور اس پر عمل درآمد ہوا اور عرف و تعامل پایا جاوے تو بعض مفتی حضرات کے نزدیک ثمن عرفی کی قسم میں داخل ہے اور بعض مفتی حضرات نے عدمِ جواز میں مقالے تحریر فرمائے ہیں، چنانچہ ان کے نزدیک یہ کرنسی ثمن نہیں لہٰذا اس سے معاملہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
عرب ممالک میں بہت سے مفتی حضرات نے اس کرنسی سے ہونے والے معاملات کے جواز کا فتوی صادر فرمایا ہے جب کہ دیگر بعض نے حکومت کے باقاعدہ تسلیم نہ کرنے تک محتاط رہنے کا فتوی دیا ہے ۔
ثمن عرفی بننے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟ ملاحظہ ہو قاموس الفقہ میں ہے:
ہمارے زمانہ کے لحاظ سے کسی چیز کے ثمن اصطلاحی بننے اور اس کی ثمنیت پر اتفاقِ رائے پیدا ہونے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ عوام میں بطورِ خود اس کا چلن ہو جائے، جیسا کہ قدیم کتبِ فقہ میں مذکور ہے فی زماننا یہ صورت ممکن نہیں، دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت کسی چیز کو ثمن قرار دے دے اور یوں عوام اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں، یہی شکل اس وقت پوری دنیا میں رائج ہے فقہاء کی تفصیلات سے واضح ہے کہ ثمنیت کا پیدا ہونا اصل میں عرف و رواج پر مبنی ہے، فلوس نافقہ اور ایسے درہم و دینار جن پر کھوٹ غالب ہو، کے ثمن تسلیم کیے جانے کی وجہ سوائے رواج و تعامل کے اور کیا ہے؟ (قاموس الفقہ: ۳/۵۹) ۔
لہٰذا جس ملک میں حکومت نے قانونی طور پر اسے تسلیم کر لیا ہو تو وہاں ثمن اصطلاحی کے حکم میں ہے ۔
فقہاء نے مال کی مختلف تعریفیں کی ہیں، درجِ ذیل ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
وقدمنا أول البيوع تعريف المال بما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، وأنه خرج بالادخار، المنفعة فهي ملك لا مال، لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوقف الاختصاص كما في التلويح، فالأولي ما في الدرر من قوله المال موجود يميل إليه الطبع
(فتاوى الشامي: ۵/۵۱، سعيد).
قال في البحر الرائق: المال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة والمالية إنما ثبت بتمول الناس كافة أو بتقوم البعض والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع له شرعاً فما يكون مباح الانتفاع بدون تمول الناس لا يكون ما لا كحبة حنطة وما يكون مالاً بين الناس ولا يكون مباح الانتفاع لا يكون متقوماً كالخمر وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم. (البحر الرائق: ۵/۲۵٦، ط: الماجدية).
وفي منحة الخالق: لأن المال ما يميل إليه الطبع ويدخر لوقت الحاجة أو ما خلق لمصالح الآدمي ويجري فيه الشح والضنة. (منحة الخالق حاشية البحر: ۵/۲۵۷، ط: الماجدية).
وقال في بدائع الصنائع: وأما التبر فهل يصلح رأس مال الشركة؟ ذكر في كتاب الشركة وجعله كالعروض وفي كتاب الصرف جعله كالأثمان المطلقة؛ لأنه قال فيه: إذا اشتري به فهلك لا ينفسخ العقد، والأمر فيه موكول إلى تعامل الناس، فإن كانوا يتعاملون به فحكمه حكم الأثمان المطلقة، فتجوز الشركة بها وإن كانوا لا يتعاملون بها فحكمها حكم العروض، ولا تجوز فيها الشركة. (بدائع الصنائع: ٦/۵۹، سعيد).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز اللبنانی: ۱/۷۰، دار الکتب العلمیۃ، ودرر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام لعلی حیدر: ۱/۱۰۱، بیروت، و تبیین الحقائق: ۳/۳۱۷، ط: امدادیہ، و مجمع الانہر: ۱/۷۲۰، دار احیاء التراث العربی) ۔
پاکستان کے بعض ادارے ؛ ۱ ۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور جامعۃ الرشید نے تعامل اور حکومتی حکم نامہ کے بغیر اس کرنسی کو کاروباری سرمایہ کاری کے طور پر اختیار کرنے کو ناجائز کہا ہے ۔
ماہنامہ" الصدیق "میں جواز و عدمِ جواز والوں کے دلائل کے بعد دونوں کے درمیان محاکمہ کیا گیا ہے، اس کے کچھ ملخصات پیش خدمت ہیں: جواز کے دلائل کا تجزیہ:
دوسری دلیل کے ضمن میں یہ بات ذکر کی گئی کہ جس بیع میں عدمِ جواز کی وجوہات میں سے کوئی وجہ نہ ہو تو وہ جائز ہے اور اگر عدمِ جواز کی کوئی صورت ہو تو وہ ناجائز ہے جب کہ بٹ کائن اور دوسری ڈیجیٹل کرنسی میں عدمِ جواز کی وجوہات میں سے کوئی وجہ نہیں لہٰذا اس کا کاروبار جائز ہے ۔
اس دلیل میں دو باتیں محل نظر ہیں: پہلی بات: یہ کہ اس میں عدمِ جواز کی وجوہات میں سے کوئی وجہ نہیں یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، کیوں کہ بیع کے ناجائز ہونے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مال نہ ہو اور بٹ کائن بھی مال نہیں، کیوں کہ مال یا تو شیٔ مرغوب اور قابل ذخیرہ چیز کا نام ہے جب کہ اس میں یہ وصف نہیں پایا جاتا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اعیان و منافع پر مال کا اطلاق ہوتا ہے اور بٹ کائن نہ تو اعیان میں سے ہے اور نہ منافع میں، لہٰذا یہ مال نہیں ہوا تو جو حکم غیر مال کی خرید و فروخت کا ہوتا ہے وہی اس کا بھی ہوگا ۔
اور اگر بعض لوگوں کے ہاں یہ شیٔ مرغوب اور قابل ذخیرہ ہو، تو بھی جو لوگ اس کو شیٔ مرغوب اور قابل ذخیرہ نہیں مانتے ان کے نزدیک یہ مال نہیں ہوا اور جس طرح جو چیز بعض کے نزدیک غیر مال ہوا اور بعض کے نزدیک مال، جیسے شراب وغیرہ تو اس کی بیع فاسد ہوتی ہے، لہٰذا یہی حکم بٹ کائن کا بھی ہوگا ۔
دوسری بات: اس دلیل میں پوری توجہ بٹ کائن کے کاروبار میں شرعی خامی پر مرکوز کی گئی ہے جب کہ ہمارا موضوع اس کی کرنسیت کا ثبوت ہے جب اس کی کرنسیت ثابت ہو جائے، تب ہم اس کے کاروبار کے جواز و عدمِ جواز کے احکام پر بحث کریں گے، یعنی دعوی ایک ہے اور دلیل دوسری، دعوی ہے بٹ کائن کی کرنسیت و عدمِ کرنسیت اور دلیل ہے کہ بٹ کائن کے کاروبار میں شرعی خامی نہیں ۔
عدمِ جواز کے دلائل کا تجزیہ: عدمِ جواز کی پہلی دلیل کا تجزیہ:
اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ ثمنیت کے لیے اصل سونا چاندی ہے یا پھر اس کی رسید اور تیسری صورت میں قابل ضمانت حکومت، اس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ثمن شرعی میں تو اصل یہی ہے کہ سونا چاندی یا اس کی رسید ہو اور یا پھر قابل ضمانت حکومت جیسا کہ فلوس وغیرہ، لیکن عرفی ثمن میں اس کے لیے تعامل اور حکومت کی اجازت بھی کافی معلوم ہوتی ہے، اس وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم بھی بٹ کائن کو ثمن شرعی نہیں کہہ رہے بلکہ ہم اس کو ثمن عرفی کہہ سکتے ہیں ۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ بٹ کائن اور ڈیجیٹل کرنسی میں سافٹ ویئر کی مضبوطی پر قوت ثمن کا اعتبار ہے یعنی جو سافٹ ویئر قوی ہوتا ہے اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو یہی بات عام کاغذی کرنسی میں بھی ہے کہ جس کرنسی کے عوام اور حکومت مضبوط ہو تو ان کی کرنسی بھی مضبوط ہوتی ہے ۔
اور یہ بات کہ بٹ کائن وغیرہ ڈیجیٹل کرنسی میں ہیکنگ وغیرہ کا خطرہ ہے، تو یہی خطرہ کاغذی نوٹ کے غصب میں اور اس کی نقلی کاپی تیار کرنے میں بھی ہے، جب وہ جائز ہے تو اس میں کیا حرج ہے؟
جواز و عدمِ جواز کے مندرجہ بالا دلائل اور ان پر کیے گئے تجزیہ کی روشنی میں چند باتیں معلوم ہوئیں:
پہلی بات: خلاصہ یہ ہے کہ کرنسی کا مدار اس کے ارقام اور نمبرات پر ہوتا ہے اور اس کرنسی پر بھی نمبرات و ارقام مرقوم ہے تو یہ کرنسی کے حکم میں ہو گی ۔
کرنسی کے ساتھ کمپنیوں کا معاملہ اور عوام کا معاملہ رائج ہو گیا ہے حتی کہ خاص نمبرات کے ساتھ محفوظ کی جا سکتی ہے اور حساب، کتاب ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، اور جب حکومت کی سرپرستی ہو اور عوام میں مقبولیت ہو تو پھر اب کرنسی ہو جانا ممکن ہے ۔
دوسری بات کا خلاصہ: بٹ کائن کا بطورِ ثمن استعمال کرنے میں بظاہر کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، البتہ سونا چاندی، اس کی رسید یا ضامن حکومتی یا ان کے مسلَّم اداروں میں تعامل نہ ہونے کی وجہ سے اسے بطورِ کرنسی استعمال کرنا درست معلوم نہیں ہوتا ۔ (ملخص از ماہنامہ" الصدیق "، ص ۱۳۵ ۔ ۱۳۷، معہد الصدیق للدراسات الاسلامیۃ کا ترجمان، محرم الحرام تا ربیع الاول ۱٤۳۹ ھ، اکتوبریادسمبر ۲۰۱۷ء) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.