نو مولود بچہ کے کان میں اذان دینے کا طریقہ:

1 min readFatwa Vol 2 #30Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اگر کوئی شخص نو مولود بچہ کے کان میں اذان دے تو اس کے لیے دائیں بائیں التفات کرنا مستحب ہے یا نہیں؟

Answer

نو مولود بچہ کے کان میں اذان دیتے وقت بھی دائیں بائیں التفات کرنا مستحب ہے ۔
در مختار میں ہے:

ويلتفت فيه يميناً ويساراً فقط

بصلاة وفلاح ولو وحده أو لمولود لأنه سنة الأذان مطلقاً. وفي الشامية: وفي البحر عن السراج أنه من سنن الأذان

حتى قالوا: في الذي يؤذن للمولود ينبغي أن يحول. (الدر المختار مع الشامي: ۱ / ۳۸۳، سعيد. وهكذا في مجمع الأنهر: ۱/۷۷. وكذا في الطحطاوي على الدر: ۱/۱۸٥. ودرر الأحكام: ۱/٥٥. والبحر الرائق: ۱/۲٥۸. والبناية في شرح الهداية: ۱/٥٤۱)

امداد الفتاوی میں ہے:
التفات یمین و یسار جیسا اذان میں مسنون ہے ویسا ہی اقامت میں اور ایسے ہی بچہ کے کان میں ۔ (امداد الفتاوی: ۱/۱۰۸ ۔ و احسن الفتاوی: ۲/۲۷۸) ۔ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.