گانے بجانے کی جگہوں پر نماز پڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
گانے بجانے کی جگہیں مثلاً بازار وغیرہ پر نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو گی یا نہیں؟
Answer
اگر نماز کی جگہ الگ ہو اور وہاں گانے بجانے کی آواز نہیں آتی تو نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہاں گانے بجانے کی جگہ میں نماز پڑھنا جب کہ وہاں سے آواز آتی ہو اور نماز میں خلل پڑتا ہو کراہت سے خالی نہیں ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ آنحضور
ﷺ
نے خراب اور ردی جگہوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا تو جہاں پر بھی گانا بجانا ہو اسی کے حکم میں ہے لہذا نماز مکروہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو بیہقی میں ہے:
نهي النبي ﷺ عن الصلاة في المقبرة والمجزرة والمزبلة والحمام. (رواه البيهقي: ۲/۳۲۹)
امداد الفتاح میں ہے:
وتكره الصلاة في الطريق لأن فيه منع الناس عن المرور وشغله بما ليس له لا نها حق العامة للمرور في الحمام وفي المخرج أي الكنيف وفي المقبرة وفي أمثالها لما رواه ابن ماجة، والترمذي عن ابن عمر رضي الله عنه "أن رسول الله نهى أن يصلي في سبعة مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق وفي الحمام ومعاطن الإبل وفوق ظهر بيت الله
والمغتسل مكان الاغتسال والعلة كونها موضع النجاسة وألحق بها المغتسل، لأنه مصب النجاسة والأوساخ والنهي عن الصلاة في الحمام لمعنين أحدهما: أنه مصب الغسالات فعلى هذا لا يكره في سائره فإذا غسل منه موضعاً ليس فيه تمثال لا تكره فيه، والثاني: أن الحمام بيت الشياطين، وفي الفتاوى: لا بأس بالصلاة في المقبرة إذا كان فيها موضع أعد للصلاة وليس فيه قبر
وتكره بحضرة كل ما يشغل البال كزينة وبحضرة ما يخل بالخشوع كلهو ولعب كما ذكرنا. (إمداد الفتاح: ۳۸٦، فصل في المكروهات، بيروت. وبدائع الصنائع: ۱/۳۰۱، سعيد. والشامي: ۱/٤۱۰، سعيد)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جہاں بھی کوئی زینت کی چیز ہو جو دل کو نماز میں متوجہ ہونے سے روک دے یا خشوع میں خلل انداز ہو تو نماز مکروہ ہو گی، اور اگر نماز کے لیے کوئی خاص جگہ تیار کی ہے جہاں گانے بجانے وغیرہ کی آواز نہیں آتی تو نماز میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصلِ سوم
سترہ کے احکام
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.