وتر کی رکعتوں کی تعداد میں شک ہو تو دعاء قنوت پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #256Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۸): نماز ِ وتر اور دعاء قنوت کا بیان

Question

اگر کسی شخص کو وتر کی تعداد میں شک ہوا کہ دو رکعت ہوئی یا تین رکعت تو قنوت کون سی رکعت میں پڑھے گا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

صورتِ مسئولہ جس رکعت میں شک ہوا اسی میں دعاء قنوت پڑھ لے پھر قعدہ بھی کرے ہو سکتا ہے کہ تیسری رکعت ہو پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور اس میں بھی قنوت پڑھ کر رکعت پوری کر لے اور آخر میں سجدہ سہو کر لے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

أما لو شك أنه في ثانيته أو ثالثته كرره (القنوت) مع القعود في الأصح وفي الشامي: (قوله كرره مع القعود) أي فيقنت ويقعد في الركعة التي حصل فيها الشك لاحتمال أنها في الثالثة، ثم يفعل كذلك في التي بعدها لاحتمال أنها الثالثة وتلك كانت ثانية. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱۰، باب الوتر والنوافل، سعيد)

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

لو شك في الوتر وهو قائم أنها ثانية أم ثالثة يتم تلك الركعة ويقنت فيها أيضاً ويسجد للسهو والمختار. (خلاصة الفتاوى: ۱/۱۷۰، الفصل السادس عشر في السهو في الصلاة، الرشيدية)

مزید ملاحظہ ہو:
الفتاوى الهندية: ۱/۱۱۱، باب الوتر، بلوچستان. وفتاوى قاضيخان: ۱/۱۰٥، على هامش الهندية. والبحر الرائق: ۲/٤۱، باب الوتر، الماجدية.

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر وتر کی نماز میں شک ہوا کہ یہ دوسری رکعت ہے یا تیسری تو اس میں قنوت پڑھے اور قعدہ کرے اور پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قنوت پڑھے اور قعدہ کرے اور سجدہ سہو کرے ۔ (عمدۃ الفقه کتاب الصلاۃ:
۲/۲۹
٤، وتر کا بیان، المجددیہ)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی حقانیہ:
۳/۲۳
٦، باب الوتر ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.