تکرارِ فاتحہ سے سجدۂ سہو کا حکم:
Question
اگر کسی نے سورۂ فاتحہ کی بعض آیات مکرر پڑھ لیں تو سجدۂ سہو واجب ہے یا اعادۂ صلاۃ ہے؟
Answer
اگر تکرارِ فاتحہ سہواً ہو تو سجدۂ سہو واجب ہے، اور اگر عمداً ہو تو نماز واجب الاعادہ ہے لیکن کتنی تکرار موجبِ سہو یا سببِ اعادہ ہے تو شامی میں اکثر فاتحہ اور طحطاوی میں بعض کا ذکر ہے دونوں میں تطبیق یہ ہو سکتی ہے کہ بعض سے اکثر یعنی نصف سے زائد مراد لیا جائے اس میں آسانی ہے لہذا اگر نصف سے زائد کو سہواً مکرر کیا تو سجدۂ سہو واجب ہے اور قصداً کیا تو اعادہ واجب ہوگا ۔ ملاحظہ ہو طحطاوی میں ہے:
ولو كرر الفاتحة أو بعضها في إحدى الأوليين قبل السورة سجد للسهو. (الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٤٦۰، باب سجود السهو، قديمي)
شامی میں ہے:
قوله وكذا ترك تكريرها: فلو قرأها في ركعتين من الأوليين مرتين وجب سجود السهو لتأخير الواجب وهو السورة كما في الذخيرة وغيرها، وكذا لو قرا أكثرها ثم أعادها كما في الظهيرية. (شامي: ۱/٤٦۰، سعيد)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر فرض کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورت ملانے سے پہلے الحمد دوبارہ پڑھے یا دوسری دفعہ آدھی سے زیادہ پڑھ لے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳٦٤، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.