سورۂ ص ٓ کے سجدہ کی تحقیق:

2 min readFatwa Vol 2 #350Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۳): سجدۂ تلاوت کا بیان

Question

سورۂ ص ٓ کا سجدہ لفظ
﴿أناب﴾
پر ہے یا
﴿حسن مآب﴾
پر اگر کسی نے
﴿حسن مآب﴾
کی جگہ
﴿أناب﴾
پر سجدہ کر لیا تو کیا حکم ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں سورۂ ص ٓ کا سجدہ
﴿حسن مآب﴾
پر ہے اگر کسی نے
﴿أناب﴾
پر کر لیا تو بھی ایک قول کے مطابق ادا ہو جائے گا، اور سورۂ ص ٓ کے علاوہ دیگر جگہوں پر لفظ سجدہ سے قبل سجدہ کیا تو دوسرا سجدہ لازم ہوگا اور سجدۂ سہو بھی لازم ہوگا ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

نقول نحن نسجد ذلك شكراً لما أنعم الله على داود عليه السلام بالغفران والوعد بالزلفي وحسن المآب ولهذا لا يسجد عندنا عقيب قوله وأناب بل عقيب قوله مآب. (بدائع الصنائع: ۱/۲۸۷، سعيد كمپني)

مراقی الفلاح میں ہے:

وصٓ ﴿وظن داود إنما فتناه فاستغفر ربه وخر راكعاً وأناب فغفرنا له ذلك وإن له عندنالزلفى وحسن مآب﴾ وهذا هو الأولى مما قال الزيلعي تجب عند قوله تعالى: ﴿وخرراكعاً وأناب﴾ وعند بعضهم عند قوله تعالى: ﴿وحسن مآب﴾. (مراقي الفلاح: ۱۸
٤
، باب سجود التلاوة، مكة المكرمة)

شامی میں ہے:

(قوله من كل واحد حرفاً) لما تقدم أن الموجب للسجدة تلاوة أكثر الآية مع حرف السجدة والظاهر أن المراد بالحرف الكلمة ويكون الحرف الحقيقي مفهوماً بالأولي. (شامي: ۲/۱۱۸، باب سجود التلاوة، سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٦)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بہتر یہ ہے کہ سورۂ ص ٓ میں سجدۂ تلاوت حسن مآب پر کیا جائے انا ب پر سجدہ کرنا خلافِ احتیاط ہے ۔ شامی میں ہے:
وفي صٓ عند حسن مآب فهو أولى من قول الزيلعي عند وأناب. (شامي: ۱/ ۷۱
٦
)
صورتِ مسئولہ میں اناب پر سجدہ کیا گیا ہے خلافِ احتیاط ہوا لیکن اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/
٤۱۹
۔ و فتاوی محمودیہ:
۷/٤۷۱
باب سجود التلاوۃ، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.