سجدۂ تلاوت رہ جانے پر وجوبِ فدیہ کا حکم:
Question
اگر کسی سے سجدۂ تلاوت رہ جائے تو اس کا فدیہ دے گا یا نہیں؟
Answer
احتیاطاً سجدۂ تلاوت کا فدیہ دے دیا جائے تو درست ہے لیکن واجب نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
ولا رواية في سجدة التلاوة أنه يجب أولا يجب كما في الحجة والصحيح أنه لا يجب كما في الصوفية إسمعيل. (شامي: ۲/۷۳، باب قضاء الفوائت، سعيد. وكذا في البحر الرائق: ۲/۹۱، كوئتة)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے جواہر الفقہ میں تحریر فرمایا ہے:
سجدۂ تلاوت رہ گئے ہوں تو احتیاط اس میں ہے کہ ہر سجدے کے بدلے میں پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت کا صدقہ کیا جائے ۔ (جواہر الفقہ:
۱/۳۹۳
، مسائل فدیہ نماز و روزہ وغیرہ، مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.