ایک سے زائد وطنِ اصلی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #374Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

(الف) کسی شخص نے ہندوستان میں شادی کی اور اس کی بیوی وہیں پر رہتی ہے اس نے افریقہ میں بھی شادی کی اور یہ افریقہ میں رہتی ہے تو کیا دونوں اس کے لیے وطن اصلی ہوں گے؟ کیا وطن اصلی متعدد ہو سکتے ہیں؟ (ب) اگر کسی کے پاس دو ملکوں کے پاسپورٹ ہیں تو اس کی وجہ سے دونوں وطن شمار ہوں گے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعت کی نگاہ میں وطن اصلی ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں، اگر کسی نے چار عورتوں سے شادی کی اور چاروں علیحدہ شہر یا وطن میں ہیں اور وہ شخص چاروں کے پاس وقتاً فوقتاً جاتا رہتا ہے تو اس کے حق میں چار وطن اصلی ہیں ۔ لہذا صورتِ مسئولہ (الف) میں شخصِ مذکور کے لیے ہندوستان اور افریقہ دونوں وطن اصلی ہیں ۔
(ب) شریعت کی نگاہ میں کسی شخص کا ملک کا فقط پاسپورٹ حاصل کر لینا وطنِ اصلی ہونے کی دلیل نہیں ہے، جب تک اس میں مستقل رہائش اختیار نہ کر لے ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحداً أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة حتى أنه لو خرج مسافراً من بلدة فيها أهله ودخله في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيماً من غير نية الإقامة. (بدائع الصنائع: ۱/۱۰۳، سعيد)

مراقی الفلاح میں ہے:

وإذا لم ينقل أهله بل استحدث أهلاً أيضاً ببلدة أخري فلا يبطل وطنه الأول وكل منهما وطن أصلي له. وقال الطحطاوي: وكذا لو استحدث أهلاً في ثلاث مواضع فالحكم واحد فيما يظهر. (مراقي الفلاح مع الطحطاوي: ص ٤۲۹، باب صلاة المسافر، قديمي. البحر الرائق: ۲/۱۳٦، كوئتة. والفتاوى السراجية: ص۱۲، باب صلاة المسافر. والشامي: ۲/۱۳۱، سعيد).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.