اقسامِ شہداء:
Question
شہداء کی کتنی قس میں ہیں اور کو ن کو ن سی؟
Answer
شہداء کی بہت ساری قس میں ہیں علامہ سیوطی رحمه الله نے مستقل رسالہ "
أبواب السعادة في أسباب الشهادة"
تحریر فرمایا ہے جس میں ٤۵ سے زیادہ اقسام بیان فرمائی ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ لکھنوی رحمه الله "
التعليق الممجد"
میں فرماتے ہیں:
قد ورد في الأخبار عدد كثير لمن يجد ثواب الشهادة فمن ذلك: (۱) المقاتل المجاهد وهو أعلى الشهداء (۲) والمطعون (۳) والمبطون (٤) والغريق (٥) وصاحب ذات الجنب (٦) والحريق (۷) والتي تموت بجُمع (۸) والذي يموت بهدم (۹) ومن يقصد الشهادة ويعزم عليه ولا يتفق له ذلك كما هو ثابت في حديثي الباب (۱۰) وصاحب السُّل أخرجه أحمد من حديث راشد بن خنيس والطبراني من حديث سلمان رضي الله عنه (۱۱) والغريب أي المسافر بأي مرض مات أخرجه ابن ماجة من حديث ابن عباس رضي الله عنه والبيهقي في الشعب من حديث أبي هريرة رضي الله عنه والدارقطني من حديث ابن عمر رضي الله عنه والصابوني في المأتين من حديث جابر رضي الله عنه والطبراني من حديث عنترة رضي الله عنه (۱۲) وصاحب الحمي أخرجه الديلمي من حديث أنس رضي الله عنه (۱۳) واللديغ (۱٤) والشريق (۱٥) والذي يفترسه السبع (۱٦) والخار عن دابته رواها الطبراني من حديث ابن عباس رضي الله عنه (۱۷) والمتردي أخرجه الطبراني من حديث ابن مسعود رضي الله عنه (۱۸) والميت على فراشه في سبيل الله من حديث أبي هريرة رضي الله عنه (۱۹) والمقتول دون ماله (۲۰) والمقتول دون دينه (۲۱) والمقتول دون دمه (۲۲) والمقتول دون أهله أخرجه أصحاب السنن من حديث سعيد بن زيد رضي الله عنه (۲۳) أو دون مظلمته أخرجه أحمد من حديث ابن عباس رضي الله عنه (۲٤) والميت في السجن وقد حبس ظلماً رواه ابن مندة من حديث علي رضي الله عنه (۲٥) والميت عشقاً وقد عف وكتم أخرجه الديلمي من حديث ابن عباس رضي الله عنه (۲٦) والميت وهو طالب العلم أخرجه البزار من حديث أبي ذر رضي الله عنه وأبي هريرة رضي الله عنه (۲۷) والمرأة في حملها إلى وضعها إلى فصالها ماتت بين ذلك أخرجه أبو نعيم من حديث ابن عمر رضي الله عنه (۲۸) والصابر القائم ببلد وقع به الطاعون أخرجه أحمد من حديث جابر رضي الله عنه (۲۹) والمرابط في سبيل الله (۳۰) ومن قتل بأمره الإمام الجائر بالمعروف ونهيه عن المنكر (۳۱) ومن صبر من النساء على الغيرة أخرجه البزار والطبراني من حديث ابن مسعود رضي الله عنه (۳۲) ومن قال كل يوم خمساً وعشرين مرة "اللهم بارك لي في الموت وفيما بعد الموت" أخرجه الطبراني من حديث عائشة رضي الله تعالى عنها (۳۳) ومن صلي الضحى وصام ثلاث أيام من الشهر ولم يترك الوتر في السفر ولا الحضر أخرجه الطبراني من حديث ابن عمر رضي الله عنه (۳٤) والمتمسك بالسنة عند فساد الأمة أخرجه الطبراني من حديث أبي هريرة رضي الله عنه (۳٥) والتاجر الأمين الصدوق أخرجه الحاكم من حديث ابن عمر رضي الله عنه (۳٦) ومن دعا في مرضه أربعين مرة "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" ثم مات أخرجه الحاكم من حديث سعد رضي الله عنه (۳۷) وجالب طعام إلى بلد أخرجه الديلمي من حديث ابن مسعود رضي الله عنه (۳۸) والمؤذن المحتسب، أخرجه الطبراني من حديث ابن عمر رضي الله عنه (۳۹) ومن سعي على امرته أو ما ملكت يمينه يقيم فيهم أمر الله ويطعمهم من الحلال (٤۰) ومن اغتسل بالثلج فأصابه برد (٤۱) ومن صلي على النبي ﷺ مئة مرة، أخرجه الأول ابن أبي شيبة في المصنف عن الحسن والثاني الطبراني في الأوسط من حديث أنس رضي الله عنه (٤۲) من قال حين يصبح ويمسي "اللهم إني أشهدك انك أنت الله الذي لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمداً عبدك ورسولك أبوء بنعمتك على وأبوء بذنبي فاغفر لي انه لا يغفر الذنوب غيرك" أخرجه الأصبهاني من حديث حذيفة رضي الله عنه (٤۳) ومن قال حين يصبح ثلاث مرات أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم ويقرأ ثلاث آيات من سورة الحشر أخرجه الترمذي من حديث معقل رضي الله عنه (٤٤) ومن مات يوم الجمعة أخرجه حميد بن منجويه من حديث رجل من الصحابة (٤٥) ومن طلب الشهادة صادقاً أخرجه مسلم فهذه خمسة وأربعون ورد فيهم أن لهم أجر الشهداء وقد ساق الأخبار الواردة فيها السيوطي رحمه الله في رسالته "أبواب السعادة في أسباب الشهادة" مع زيادة. (التعليق الممجد على موطأ امام محمد مع تحقيق الدكتور تقي الدين ندوي: ۲/۸۹، ۹۰، ۹۱، باب ما يكون من الموت شهادة، دار السنة والسيرة بدمشق. وكذا في مظاهر حق جديد: ۲/۳۸، دار الاشاعت. ودليل الفالحين: ٤/۱٥۷، باب بيان جماعة من الشهداء في ثواب الآخرة ويغسلون. والشامي: ۲/۲٥۲، مطلب في تعداد الشهداء، سعيد)
اضافہ کے ساتھ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) راہِ خدا میں جس کو قتل کیا گیا وہ شہید ہے ۔
(۲) طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔
(۳) پیٹ کی بیماری میں یعنی دست اور استسقاء میں مر جانے والا شہید ہے ۔
(٤) پانی میں بے اختیار ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے ۔
(۵) نمونیہ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔
(٦) جل کر مرنے والا شہید ہے ۔
(۷) کنواری یا حالتِ حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے ۔
(۸) دیوار یا چھت کے نیچے دب کر مر جانے والا شہید ہے ۔
(۹) اور جسے شہادت کی پر خلوص تمنا اور لگن ہو مگر شہادت کا موقع اسے نصیب نہ ہو اور اس کا وقت پورا ہو جائے اور شہادت کی تمنا دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو جائے وہ شہید ہے ۔
(۱۰) دِق "ٹی بی" کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ۔
(۱۱) حالتِ سفر میں مرنے والا شہید ہے ۔
(۱۲) بخار میں مرنے والا شہید ہے ۔
(۱۳) جو زہریلے جانور کے کاٹنے سے مر جائے وہ شہید ہے ۔
(۱٤) گلے میں پانی پھنس جانے اور دم گھٹ جانے کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے ۔
(۱۵) درندوں یعنی شیر وغیرہ کا لقمہ بن جانے والا شہید ہے ۔
(۱٦) سفر جہاد میں سواری سے گر کر مر جانے والا شہید ہے ۔
(۱۷) جس شخص کو گھوڑا یا اونٹ کچل اور روند ڈالے اور وہ مر جائے یعنی کسی حادثہ میں مر جائے جیسے کار کا حادثہ، ہوائی جہاز کا حادثہ وغیرہ وغیرہ وہ شہید ہے ۔
(۱۸) دورانِ جہاد اپنی موت مر جانے والا شہید ہے ۔
(۲۳ ۔ ۱۹) اپنے مال، اپنے دین، اپنے خون، اپنے اہل و عیال، اور حق کی خاطر قتل کیا جانے والا شہید ہے ۔
(۲٤) جس شخص کو حاکمِ وقت ظلم و تشدد کے طور پر قید خانہ میں ڈال دے اور وہ وہیں مر جائے وہ شہید ہے ۔
(۲۵) پاکباز اور پرہیز گار عاشق جس نے اپنے عشق کو چھپایا اور اسی حال میں اس کا انتقال ہو گیا وہ شہید ہے ۔
(۲٦) طلبِ علم میں مرنے والا شہید ہے، اور طلب علم میں مرنے والے سے وہ شخص مراد ہے جو حصول علم اور درس و تدریس میں مشغول ہو، یا تصنیف و تالیف میں مصروف ہو، یا کسی علمی مجالس میں حاضر ہو ۔
(۲۷) جو عورت حاملہ ہونے کے بعد سے بچے کی پیدائش تک، یا بچہ کا دودھ چھڑانے تک مر جائے وہ شہید ہے،
(۲۸) کسی شہر میں طاعون پھیل جائے اس وقت اسی شہر میں صبر کر کے ٹھہر جائے وہ شہید ہے ۔
(۲۹) اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کے دوران مر جانے والا شہید ہے ۔
(۳۰) جو شخص ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اچھا اور نیک کام کرنے کا حکم دے اور برے کام سے رو کے اور وہ حاکم اس شخص کو ما ر ڈالے تو وہ شہید ہے ۔
(۳۱) جس عورت نے اپنی سوکن کی موجود گی میں صبر و ضبط سے کام لیا اسے شہید کا ثواب ملے گا ۔
(۳۲) جو شخص روزانہ یہ دعا
"اللهم بارك لي في الموت وفيما بعد الموت"
پچیس مرتبہ پڑھے گا اور اپنی فطری موت مرے گا اس کو اللہ تعالی شہید کا ثواب عنایت فرمائیں گے ۔
(۳۳) جو شخص اشراق اور چاشت کی نماز کا اہتمام کرے اور مہینہ میں تین روزے رکھے، اور حالتِ سفر و حضر میں وِ تر کی نماز نہ چھوڑے اس کے لیے شہید کا اجر لکھا جاتا ہے ۔
(۳٤) جب امت میں اعتقادی اور عملی گمراہی پھیل جائے اس وقت سنت پر مضبوطی سے قائم رہنے والا شہید ہے ۔
(۳۵) سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ہوگا ۔
(۳٦) جو مسلمان اپنے مرض میں حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا
"لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين"
چالیس مرتبہ پڑھے اور اسی مرض میں مر جائے تو اسے شہید کا ثواب دیا جاتا ہے ۔
(۳۷) جو شخص مسلمانوں کے لیے غلہ فراہم کرے وہ شہید ہے ۔
(۳۸) بلا اجرت صرف رضائے الٰہی کی خاطر اذان دینے والا مؤذن ۔
(۳۹) جو شخص اپنے اہل و عیال اور اپنے غلام باندی کے لیے کمائے وہ شہید ہے ۔
(٤۰) برف سے غسل کرنے کی وجہ سے سردی نے مار ڈالا ہو وہ شہید ہے ۔
(٤۱) آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں، جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اُس پر سو مرتبہ اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں، اور جو شخص مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان براءت یعنی نفاق اور آگ سے نجات لکھ دیتے ہیں، اور اللہ تعالی اسے قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ رکھے گا ۔
(٤۲) جو شخص صبح و شام یہ دعا پڑھے "
اللهم إني أشهدك انك أنت الله الذي لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمد اً عبد ك ورسولك أبو ء بنعمتك على وأبو ء بذنبي فاغفر لي انه لا يغفر الذنوب غيرك
" وہ شہید ہے ۔
(٤۳) جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ
"أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم"
اور سورۂ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھتا ہے، اللہ تعالی اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مقر ر کرتے ہیں اور فرشتے اس کے لیے شام تک بخشش کی دعا کرتے ہیں اور وہ شخص اگر اس دن مر جاتا ہے تو اس کی موت شہید کی موت ہوتی ہے، اور جو شخص شام کو یہ آیتیں پڑھتا ہے وہ بھی اسی اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔
(٤٤) جو شخص جمعہ کی شب میں مر جاتا ہے وہ شہید ہے ۔
(٤۵) جو شخص سچے دل سے شہادت طلب کرے اور مر جائے تو وہ شہید ہے ۔
(٤٦) منقول ہے کہ جو شخص مرگی کے مرض میں مر جاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے ۔
(٤۷) جو شخص حج اور عمرہ کے دوران مر جاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے ۔
(٤۸) جو شخص با وضو مرتا ہے وہ شہید ہوتا ہے ۔
(٤۹) اسی طرح رمضان کے مہینے میں بیت المقدس، مکہ یا مدینہ مرنے والا شخص شہید ہوتا ہے ۔
(۵۰) دبلاہٹ کی بیماری میں مرنے والا شخص شہید ہوتا ہے ۔
(۵۱) جو شخص کسی آفت و بلا میں مبتلا ہو اور اس آفت و بلا پر صبر و رضا کا دامن پکڑے ہوے مر جائے وہ شہید ہے ۔
(۵۲) جو شخص صبح و شام
"له مقاليد السموات والأرض"
پڑھے وہ شہید ہے ۔
(۵۳) منقول ہے کہ جو شخص نوے برس کی عمر میں مرے وہ شہید ہے ۔
(۵٤) یا آسیب زدہ ہو کر مرے ۔
(۵۵) یا اس حال میں مرے کہ اس کے ماں باپ اس سے خوش ہوں ۔
(۵٦) یا نیک بخت بیوی اس حال میں مرے کہ اس کا خاوند اس سے خوش ہو تو وہ شہید ہے ۔
(۵۷) اسی طرح عادل حاکم و بادشاہ اور شرعی قاضی، یعنی وہ قاضی جو ہمیشہ حق و انصاف کی روشنی میں فیصلہ کرے وہ شہید ہے ۔
(۵۸) جو مسلمان کسی کمزور مسلمان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے وہ بھی شہید ہے ۔
(۵۹) گڑھے میں گر کر مر جانے والا شہید ہے ۔
(٦۰) جو شخص کشتی میں بیٹھا اور دورانِ سفر قے میں مبتلا ہوا تو اسے شہید کا اجر ملتا ہے ۔
(٦۱) جس شخص نے اپنی زندگی لوگوں کی مہمان داری اور خاطر و تواضع میں گزاری وہ شہید ہے ۔
(٦۲) جو شخص میدانِ کار زار میں زخمی ہو کر فوراً نہ مر جائے بلکہ کم سے کم اتنی دیر تک زندہ رہے کہ دنیا کی کسی چیز سے فائدہ اٹھائے وہ بھی شہید ہے ۔
حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ شہداء کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے ۔
ملاحظہ ہو اوجز المسالک میں ہے:
وهكذا كما رأيت ترتقي الشهداء إلى قريب من ستين. (أوجز المسالك إلى موطأ مالك: ٤/٥٤۷، باب النهي عن البكاء على الميت، دمشق).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.