طلباء کے پیسوں میں زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #46Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

والدین بچوں کو خرچے کی جو رقم دیتے ہیں، کیا اس رقم پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی طالبِ علم اپنے اخراجات کی ادائے گی کے لئے تجارت کر ے تو اس مال پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

Answer

اگر رقم نصاب کے بقدر ہے اور پورا سال بالغ طالبِ علم کے قبضہ میں ہے تو زکوٰۃ لازم ہے ورنہ نہیں، نیز اخراجات کے بعد جو مال بچ جائے اور بقدرِ نصاب ہو تو حولانِ حول کے بعد زکوٰۃ لازم ہے، ہاں نابالغ کے مال میں زکوٰۃ نہیں ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

وسببه أي افتراضها ملك نصاب حولي نسبة للحول لحولانه عليه تام، قوله ملك نصاب فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبّلة لعدم الملك. (الشامي: ۲/۲۵۹، سعيد).

البحر الرائق میں ہے:

في معراج الدراية في فصل زكاة العروض: أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة. (البحر الرائق: ۲/۲۰٦، كوئٹه، وكذا في الشامي: ۲/۲٦۲، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وأما شرط وجوبها: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد

كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
مالِ تجارت کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ: سال پورا ہونے پر جس قدر مال موجود ہو اس وقت اس کی جتنی قیمت ہو اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤۱۳، مبوب و مرتب جامعہ فاروقیہ) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
ایک شرط یہ ہے کہ بقدرِ نصاب مال کا پورے طور پر مالک ہو اور پوری ملکیت یہ ہے کہ اس مال پر ملکیت اور قبضہ دونوں پائے جائیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۲، مجددیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک شخص کے پاس کئی ہزار روپیہ جمع ہے اس پر سال بھی گذر چکا ہے، مگر اس کے پاس نہ مکان ہے اور نہ ہی گھر یلو سامان، ابھی شادی بھی نہیں کی انہی ضروریات کے لئے روپیہ جمع کر رہا ہے، اس پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟
الجواب: اس پر زکوۃ فرض ہے، البتہ اگر سال پورا ہونے سے قبل تعمیر مکان کا سامان یا گھریلو استعمال کی اشیاء وغیرہ خرید لے تو زکوۃ فرض نہ ہو گی ۔
قال ابن عابدين رحمه الله تعالى تحت قوله (وفسره ابن ملك) فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض: أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري اه، قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي وسيصرح به الشارح أيضاً ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أو لا (إلى قوله) وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لوكان له مال ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج وكذا لوكان يحتاجه لشراء دار أو عبد، فليتأمل. والله أعلم. رد المحتار: ۲/۷. (أحسن الفتاوى: ٤/۲۹۱، سيعد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.