قرض پر زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #55Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

(۱) میں نے زید کو دس ہزار رینڈ قرضہ کے طور پر دیے تھے اس نے تین سا ل بعد مکمل رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا جو کہ جنوری ۲۰۰٤ ؁ میں

مکمل ہوے ۔ (۲) اور عمر نے بیس ہزار رینڈ قرضہ لیا تھا اور ہر ماہ دو ہزار رینڈ ادا کرنے کا وعدہ کیا قسط وار۔
(۱) کیا مجھ پر ان ۳ سالوں کی زکوۃ واجب ہے؟ (۲) قسطوار رقم پر کس طرح زکوۃ ادا کی جائے؟

Answer

(۱) جس وقت قرض وصول ہو جائے اس وقت گذشتہ تین سالوں کی زکوٰۃ دینا بھی واجب ہے۔
(۲) جس وقت جس قدر قرض وصول ہو جائے اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔
ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:

وزكاة الدين على أقسام: فإنه قوي ووسط وضعيف؛ فالقوي هو بدل القرض ومال التجارة إذا قبضه وكان على مقر ولو مفلساً أو على جاحد عليه بينة زكاه لما مضى ويتراخى وجوب الأداء إلى أن يقبض أربعين درهماً، ففيها درهم، لأن ما دون الخمس من النصاب عفو لا زكاة فيه وكذا فيما زاد بحسابه. (مراقي الفلاح: ۲٦۲، كتاب الزكاة، بيروت، كذا في الشامي: ۲/۳۰۵، سعيد).

محیطِ برہانی میں ہے:

إذا قبض منها أربعين درهماً يجب عليه الأداء بقدر ما قبض، هذا كله قول أبي حنيفة رحمه الله. (المحيط البرهاني: ۳/۲٤٦).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
بعد وصول قرضہ کے زکوٰۃ دینا واجب ہوتا ہے لیکن اگر قبل از وصول دے دی جائے تو یہ بھی جائز ہے جو قرضہ اب قابلِ وصول ہے اور بعد میں شاید قابلِ وصول نہ رہے اس میں بھی یہی حکم ہے جو گزرا کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا واجب اسی وقت ہوتا ہے جب وصول ہو جاوے لیکن اگر فی الحال دے دے گا تب بھی درست ہے، اور قرض اگر باقساط وصول ہو تو جس قدر وصول ہوتا جاوے اس کی زکوٰۃ ادا کرتا جائے اور اگر ایک دفعہ کل کی زکوٰۃ دے دے خواہ پہلے یا پیچھے یہ بھی درست ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۹٦ مدلل و مکمل، دار الاشاعت)۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
وہ قرض جو کسی شخص کو دیا گیا ہو تاجر نے وہ سامان جو تجارت ہی کے لئے تھا بیچا ہو اور اس کی قیمت باقی ہو اگر یہ رقم کل کی کل ایک ساتھ مل جائے تو سبھوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی اور اگر کئی سالوں کے بعد ملی تو تمام سالوں کی بہ یک وقت ادا کی جائے گی، اگر یہ رقم تھوڑی تھوڑی وصول ہو تو جتنا روپیہ وصول ہو اتنے کی زکوٰۃ ادا کرتا جائے، لیکن اگر یہ رقم نصابِ زکوٰۃ کے ۵/۱ سے بھی کم ہو تو پھر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، اس کو فقہ کی اصطلاح میں دینِ قوی کہتے ہیں۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱۲، نعیمیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.