قرض کی زکوٰۃ قرض خواہ کے ذمہ ہونے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #56Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

اگر کسی نے دوسرے شخص کو قرض دیا تو یہ قرض والی رقم اس کی ملکیت سے نکلی اور مدیون کی ملکیت میں آ گئی تو زکوٰۃ کو ن ادا کرے گا؟

Answer

یہ دین کی رقم دائن کی ملک ہے یا اس پر حق ملکیت ہے، لہذا اس پر زکوٰۃ لازم ہے، مدیون پر زکوٰۃ لازم نہیں۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

فلا زكاة على مكاتب لعدم الملك التام ولا في كسب مأذون ولا في مرهون بعد قبضه ولا فيما اشتراه لتجارة قبل قبضه ومديون للعبد بقدر دينه فيزكي الزائد إن بلغ نصاباً وعروض الدين كالهلاك عند محمد ورجّحه في البحر ولو له نصب صرف الدين لا يسرها قضاء ولو أجناساً صرف لا قلها زكاة. (الدر المختار: ۲/۲٦۳، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ومنها الملك التام وهو ما اجتمع عليه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۳، والطحطاوي على الدر: ۱/۳۹۱).

جدید فقہی مباحث میں ہے:
وہ دین جو تجارتی مال یا قرض کے طور پر لازم ہے اور مدیون اس دین کا اقرار بھی کرتا ہے اور مدیون ادائے گی پر قدرت بھی رکھتا ہے اور دائن بہ آسانی اس کو وصول بھی کر سکتا ہے تو ایسے دین کو دینِ قوی کہا جاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ دائن پر واجب ہوتی ہے۔ (جدید فقہی مباحث: ٦/۲۸۸، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ۔ و ایضاح النوادر: حصۂ دوم: ۳۰)۔ کفایت المفتی میں ہے:
روپے کے مالک کو زکوٰۃ دینی ہو گی قرض لینے والے کے ذمہ نہیں۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦٦، دار الاشاعت)۔
آپ کے مسائل میں ہے:
اصول یہ ہے کہ قرض کی رقم کی زکوٰۃ قرض دینے والے کے ذمے ہوتی ہے، قرض لینے والے کے ذمے نہیں ہوتی، اس لئے اس رقم کی زکوٰۃ آپ لوگوں کے ذمہ نہیں، قرض دینے والے کو چاہیے کہ اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۵۱، مکتبہ لدھیانوی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.