Making Dhikr In A Group
Question
What is the status of making Dhikr in a group setting?
Answer
In principle, to make the Dhikr of Allah Ta’ala softly and loudly is permissible. Some Mashaaikh (Spiritual Mentors) prescribe and practice group Dhikr (in a chorus form) in order to teach their Mureeds (disciples) how to make Dhikr and bring them close to Allah Ta’ala. This will also be permissible on condition that it is not considered as Fardh or Sunnah, and it must not cause disturbance to someone performing Salaah or sleeping, although it will be best for each person to make Dhikr individually.
References (Arabic / Urdu sources)
عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم “ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
(صحيح البخاري 2697)
في نفسہ ذکر اللہ بہت مبارک ہے ، قرآن کریم اور حدیث شریف میں اس کی کثرت سے ترغیب آئی ہے… ان کو آہستہ اور جہر سے پڑھنا ہرطرح ٹھیک مگر مناسب یہ ہے کہ ان کو آہستہ پڑھا جائے اور انفرادی طور پر پڑھا جائے حلقہ کی صورت سے آواز ملا کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے ، بسا اوقات اس میں تان کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ، اپنا اپنا الگ پڑھیں (فتاویٰ محمودیہ 4/442 )
ذکر جلی جائز ہے اور مشائخ صوفیہ کا معمول و متوارث ہے احادیث کثیرہ سے اس کا ثبوت ہوتا ہے جن مواقع میں شریعت نے خود ذکر جلی مقرر فرمایا ہے اس کے اندر تو کوئی کلام ہی نہیں کر سکتا جیسے اذان، تکبیر، تلبیہ، حج، تکبیر، تشریق وغیرہ کہ یہ سب اذکار ہیں اور جہر سے ثابت ہیں۔ ہاں جن مواقع میں کہ شریعت سے ثبوت نہیں وہاں اگر کوئی وجہ عارضی مانع نہ ہو تو نفس حکم یہی ہے کہ کسی سونے والے کو تکلیف ہو یا کسی نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل پڑتا ہو یا ذکر کرنے والا جہر کو ضروری یا لازم سمجھے وغیرہ۔ اور جہاں یہ موانع موجود نہ ہوں وہاں ذکر جلی جائز مگر ذکر خفی اولی ہے۔ (کفایت المفتی۲/۷۷)
- Answered by
- Mufti Abdul Kader Fazlani
- Checked & approved by
- Mufti Yacoob Vally Saheb
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Ifta Ibn Masood. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.