Mayyit ka dain ka mutaalaba karne waale ke paas koi suboot nahi

· 1 Rabiʻ II 1442 AH2 min readUrdu
Urdu QuestionsWaraasat

Question

ایک دوست کی والدہ فوت ہو چکی ہیں۔ جب حیات تھیں تو ایک گھر سے کپڑے وغیرہ خریداری کرتی تھیں۔ اس گھر سے وفات کے کچھ عرصہ بعد پیغام ملا کہ اپکی والدہ نے کپڑے خریدے تھے اسکی رقم ادا نہیں کی جبکہ والدہ نے گھر والوں کوبتایا تھا کے میرے ذمہ کسی کا قرض نہیں ہے۔ گھر والوں نے بار بار کے اصرار پر رقم دینے کا ارادہ کر رکھا ہے کہ کہیں والدہ کو یاد نہ رہا ہو اور احتیاط کے طور پر ادا کر دیں۔ اس بات کے کچھ عرصہ بعد دوست کو خواب میں والدہ کی زیارت ہوئی جنہوں نے سبز لباس زیب تن کر رکھا تھا دوست نے خواب میں استفسار کیا کہ کیا آپ نے فلاں کے کپڑوں کی رقم ادا کرنی ہے یا نہیں تو والدہ نے جواب دیا کہ نہیں ادا کرنے۔ اس کے بعد خواب سے اچانک غائب ہو گئیں یہ خواب دوست نے صبح تہجد کے وقت میں دیکھا تھا۔ معلوم کرنا ہے کہ کیا دوست کو رقم خواہ کی ڈیمانڈ کے مطابق رقم ادا کر دینی چاہیے یا خواب میں والدہ نے کے نفی میں جواب کے مطابق عمل کرنا چاہیے، رہنمائی درکار ہے۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

Answer

Agar un ke paas koi suboot nahi to un ki baat ka koi i'tibaar nahi he. Lihaza raqam ka ada karna wurasa par waajib nahi he.

And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.

Answered by
Mufti Zakaria Makada
Checked & approved by
Mufti Ebrahim Salejee (Isipingo Beach)
Ask Mufti Online

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Mufti Online — Madrasah Ta'leemuddeen. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.