واجب مقدار سے زائد ادا کرنے پر آئندہ زکوٰۃ میں محسوب کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے تخمینے سے ایک سال کی زکوٰۃ ادا کی، پھر جب حساب کیا تو معلوم ہوا کہ اس نے واجب مقدار سے زائد ادا کی تو زائد رقم آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں زائد رقم آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے ۔
فتاوی ولوالجیہ میں ہے:
رجل له أربع مائة درهم فظن أن عنده خمس مائة درهم فأدي زكاة خمس مائة، ثم ظهر أن عنده أربع مائة، فله أن يحتسب الزكاة للسنة الثانية، لأنه أمكن أن يجعل الزيادة تعجيلاً. (الفتاوى الولوالجية: ۱/۱۹۳، الفصل الثالث في تعجيل الزكاة، بيروت، وكذا في الشامي: ۲/۲۹۳، سعيد والبحر الرائق: ۲/۲۲۵، كوئٹه).
کتاب الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک شخص نے دس ہزار روپے بطور زکوٰۃ کے دے دیے، لیکن جب اس نے حساب کیا تو اس پر آٹھ ہزار روپے ہی زکوٰۃ کے واجب ہوے تھے، تو کیا وہ آئندہ اپنی زکوٰۃ میں اس زائد رقم حساب کر سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں !مالکِ نصاب ہونے کے بعد ایک سے زیادہ سالوں کی زکوٰۃ بھی قبل از وقت ادا کی جا سکتی ہے، پس گویا اس نے موجود ہ سال کے ساتھ سالِ آئندہ کی زکوٰۃ کا بھی حصہ ادا کر دیا ہے اور یہ درست ہے ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص۳۲۱، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
مقدارِ واجب سے زائد جو رقم زکوٰۃ میں دے دی گئی ہے وہ آئندہ سال کی زکوٰۃ میں محسوب ہو سکتی ہے ۔ (امداد الاحکام: ۲/۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.