زکوٰۃ ادا کرنے کا وکیل بنانے کے بعد رقم واپس لینے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #108Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

زید نے عمر کو زکوٰۃ کے ۵۰ ہزار رینڈ فقراء تک پہنچانے کے لیے دیے، عمر نے ابھی تک زکوٰۃ تقسیم نہیں کی یا کچھ تقسیم کر لی کہ زید نے عمر سے کہا وہ رقم واپس کر دو، میں خود تقسیم کر دوں گا، عمر دینے سے انکار کرتا ہے، کیا زید اس رقم کو واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے عمر کو زکوٰۃ کے لیے وکیل بنایا اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے قبل ہی اس کو معزول کر دیا تو عمر معزول ہو گیا اب زید رقم واپس لے کر خود ادا کر دے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ اگر کسی نے دو سو درہم کی زکوٰۃ ۵ درہم وکیل کو دئیے، وکیل نے اب تک ادا نہیں کیے، پھر پتا چلا کہ معطی کے پاس دو سو درہم سے ایک درہم کم ہے یعنی اس کو زکوٰۃ ادا نہیں کرنی ہے، تو معطی وکیل سے ۵ درہم واپس لے سکتا ہے، ہاں اگر وکیل نے فقیر کو پہنچا دیے تو اب معطی کو مانگنے کا حق نہیں ہے ۔

رجل أدي خمسة من المأتين بعد الحول إلى الفقير أو إلى الوكيل لأجل الزكاة، ثم ظهر فيها درهم ستوقة لم تكن تلك الخمسة زكاة لنقصان النصاب، وإذا أراد أن يسترد الخمسة من الفقير ليس له ذلك وله أن يسترد من الوكيل إن لم يتصدق بها، هكذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲).

معلوم ہوا کہ جو مال بنیتِ صدقہ فقیر تک پہنچ جائے وہ واپس نہیں ہو سکتا، اور جو وکیل کو دیا وہ واپس ہو سکتا ہے، ہاں اگر عامل یا مدرسہ کے سفیر کو زکوٰۃ کی رقم دی تو اس سے واپس نہیں لے سکتا، کیوں کہ وہ فقراء کا بھی وکیل ہے، اسی لیے اگر عامل کے پاس ہلاک ہو جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ۔
ولو هلك المال في يد العامل أوضاع سقط حقه وأجزأ عن الزكاة. (هندية: ۱/۱۸۸).
وفي الدر المختار: لا يخرج عن العهدة بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي، لأن يده كيد الفقراء. (الدر المختار مع الشامي:
۲
/
۲۷۰
، سعيد).
(وكذا في إمداد المفتين: جلد دوم ص ۱۰۸۵. وإمداد الفتاوى: ۳/۳۱٦. وجديد فقهي مسائل: ۱/۲۲۷).

ہاں فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ کسی شخص نے کہا کہ فلان کی طرف سے دین وصول کرنے کا وکیل ہوں، مدیون نے وکالت سے انکار کر کے دین دے دیا تب بھی مدیون اس رقم کو وکیل سے واپس نہیں لے سکتا ۔
در مختار میں ہے:

أدعي أنه وكيل الغائب بقبض دينه فصدقه الغريم أمر بدفعه إليه

وكذا إذا لم يصدقه على الوكالة ودفع له ذلك على زعمه

وفي الوجوه كلها الغريم ليس له الاسترداد حتى يحضر الغائب. (الدر المختار: ۵/۵۳۲، سعيد).

تکملہ فتح القدیر میں ہے:

"في الوجوه كلها" يعني الوجوه الأربعة المذكورة وهي: (۱) دفعه مع التصديق من غير تضمين (۲) ودفعه بالتصديق مع التضمين (۳) ودفعه ساكتاً من غير تصديق ولا تكذيب (٤) ودفعه مع التكذيب. ليس للغريم أن يسترد المدفوع حتى يحضر الغائب لأن المؤدي صار حقاً للغائب، إما ظاهراً وهو في حالة التصديق أو محتملاً وهو في حالة التكذيب كذا في عامة الشروح. (تكملة فتح القدير: ۸/۱۲۸، دار الفكر).

مذکورہ بالا فقہی عبارات کی روشنی میں مسئلہ دین اور مسئلہ زکوٰۃ میں فرق واضح ہو جاتا ہے اس طور پر کہ دین میں مدیون وکیل سے واپس نہیں لے سکتا کیوں کہ دائن کا حق قوی اور مضبوط ہے، اور زکوٰۃ میں معطی وکیل سے واپس لے سکتا ہے، اس لیے کہ فقیر کا حق مضبوط نہیں فقیر تک پہنچنے سے ثابت ہوتا ہے، ہاں جو جانبین کے وکیل ہوتے ہیں ان سے بھی واپس نہیں لے سکتا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.