مرتہن کو وکیل بالبیع بنانے کا حکم:
Question
اگر حامد نے محمود کو قرض دیا اور محمود نے اپنا مکان حامد کے پاس بطورِ رہن رکھا اور یہ شرط لگا دی کہ اگر محمود ایک سال تک قرض ادا نہ کرے تو حامد مرتہن کو یہ حق حاصل ہو گا کہ مکان کو بیچ کر اپنا قرضہ وصول کر لے کیا ایسی شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟ پھر مکان فروخت کرنے کی شکل میں صرف مرتہن کا حق ہو گا یا راہن کا بھی حق ہوگا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسی شرط لگانا جائز اور درست ہے کیوں کہ راہن مکان کا مالک ہے تو وہ خود بھی فروخت کر سکتا ہے اور دوسرے کو وکیل بالبیع بھی بنا سکتا ہے، پھر مکان فروخت کرنے کے بعد جو رقم حاصل ہو گی حامد مرتہن فقط اپنا حق وصول کرے گا اور باقی ماندہ رقم محمود راہن یعنی مالکِ مکان کو واپس کر دے گا کیوں کہ زائد رقم میں مرتہن کا حق نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا وكل الراهن المرتهن أو العدل أو غيرهما ببيع الرهن عند حلول الدين فالوكالة جائز ة لأنه توكيل ببيع ماله. (الهداية: ٤/۵۳۸، باب الرهن الذي يوضع على يد العدل).
تبيين الحقائق
میں ہے:
فإن وكل المرتهن أو العدل أو غيرهما ببيعه عند حلول الدين صح، لأن الراهن مالك فله أن يوكل من شاء من الأهل ببيع ماله معلقاً أو منجزاً لأن الوكالة يجوز تعليقها بالشرط لكونها من الأسقاطات لأن المانع من التصرف حق المالك وبالتسليط على بيعه أسقط حقه والإسقاطات يجوز تعليقها بالشروط. (تبيين الحقائق: ٦/۸۱، ط: إمدادية).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.