زکوٰۃ کی رقم سے مکان بنا کر فقیر کو اس کا مالک بنانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #133Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب (٤): مصارفِ زكوة كا بيان

Question

اگر کسی نے زکوٰۃ کی رقم سے گھر خرید کر فقیر کو اس گھر کا مالک بنا دیا تو زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مکان فقیر کے نامزد کر دیا اور اس مکان کے کاغذات فقیر کو دے کر مالک بنا دیا تو زکوٰۃ ادا ہو گئی ۔
لیکن ضروری ہے کہ مکان بنانے کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت متعین کرے ایسا نہ ہو کہ مکان پر دو لاکھ کا خرچہ آیا اور مارکیٹ میں اس کی قیمت ڈھائی لاکھ ہے، اور زکوٰۃ دینے والے نے اس کی قیمت ۳ لاکھ لگائی بلکہ اس کی قیمت عام بازار کے مطابق لگائے، ہاں اس میں یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ ایک فقیر کو مقدارِ نصاب سے زیادہ دیا گیا، لیکن فقیر کی ضرورت کی وجہ سے اور ان کے بال بچوں کی رہائش فراہم کرنے اور ایک اہم ضرورت پورا کرنے کے پیشِ نظر امید ہے کہ اللہ تعالی اس عمل کو قبول فرما کر اجر عطا فرمائیں گے ۔
در مختار میں ہے:

هي تمليك خرج الإباحة، فلو أطعم يتيماً ناوياً الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه
۔
(الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۵۷، كتاب الزكاة، سعيد)
۔
مزید ملاحظہ ہو:
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۷۱٤، قديمي
۔
والبحر الرائق: ۲/۳۵۳، كوئته)
۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر رقم مسکین کو نہیں دی بلکہ اس رقم سے مکان بنوا کر دیاتو اس میں کراہت نہیں اس لئے کہ اس سے مسکین صاحبِ نصاب نہیں ہوا ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۹۰) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
کسی نے زکوٰۃ کی رقم اصل مال سے الگ نہیں کیا اور مجموعہ رقم سے ذاتی طور پر ایک مکان تعمیر کر کے جو رقم خرچ ہوئی اس کا حساب لگا کر زکوٰۃ کی نیت سے کسی نادار بے گھر فقیر کو مالک بنا کر فقیر کے نام رجسٹری کرا کے قبضہ دلا دیا اور اس میں اپنا کوئی تعلق باقی نہیں رکھا تو اس طرح مکان بنا دینا بلا کراہت جائز اور درست ہے اس لئے کہ فقیر کو اس سے مالدار صاحبِ نصاب نہیں بنایا گیا، بلکہ صرف ضرورت کا مکان فراہم ہوا ہے ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۱۵، نعیمیہ) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.