بنامِ قرض زکوٰۃ دی اب فقیر قرض واپس کرتا ہے تو اس رقم کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #113Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

ایک شخص نے کسی فقیر کو زکوٰۃ دی اور اس کو قرض کا نام دیا کہ میں قرض دے رہا ہوں پھر فقیر نے اس کو واپس کرنا چاہا مالک نہیں لے رہا تھا، لیکن فقیر نے زبردستی واپس کر دی اب یہ رقم دو بارہ واجب التصدق ہے یا نہیں؟ کیوں کہ بظاہر زکوٰۃ ادا ہو چکی ہے؟

Answer

جو مال واجب التصدق ہو معطی کے لئے اس کا لینا جائز نہیں ہے پس اگر فقیر واپس کرنے پر اصرار کر رہا ہے تو اس کو لے کر کسی اور کو دینا ہے لیکن خود اس رقم کو استعمال نہیں کر سکتا، بہر صورت زکوٰۃ ادا ہو چکی ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

ومن أعطي مسكيناً درهماً وسماها هبة أو قرضاً ونوي الزكاة فإنها تجزئه في الأصح. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۱).

رد المحتار میں ہے:

إنه لا اعتبار للتسمية فلو سماها هبة أو قرضاً تجزئه في الأصح. (رد المحتار: ۲/۲٦۸، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى، هذا في الشرع كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۰).

امداد الاحکام میں ہے:
اگر زید نے عمرو سے اس کے سوالِ قرض کے بعد یہ نہیں کہا کہ یہ روپیہ قرض نہیں بلکہ ہبہ ہے تو زکوٰۃ بوجہ نیتِ زکوٰۃ کے اس صورت میں بھی ادا ہو گی لیکن اس رقم کو عمرو سے واپس لینا جائز نہیں کیوں کہ اس صورت میں یہ بالکل عود فی الصدقہ ہے ۔ اگر زید نے اس رقم کو واپس لے لیا تو لازم ہے کہ اس کو پھر کسی حیلہ سے عمرو ہی کو واپس کر دے ورنہ اداء زکوۃ میں شبہ رہے گا،
قال في الشامية تحت قول الدرر: وشرط صحة أدائها نية مقارنة له أي للأداء ما نصه أشار إلى أنه لا اعتبار لتسمية فلو سمّاها هبة أو قرضاً تجزيه على الأصح. شامي: ۲/۲٦۸. (إمداد الأحكام: ۲/۱۰، وفتاوى رحيميه: ۳/۱۱۲، وأحسن الفتاوى: ٤/۲٦۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.