زکوٰۃ کی رقم سے خیراتی ادارہ کے نام زمین خریدنے کا حکم:
Question
ایک فلاحی ادارہ ہے جو زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے غرباء کی امداد کرتا ہے، اب اس کا ارادہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے زمینیں خریدیں اور ان پر مکانات تعمیر کر کے غرباء میں تقسیم کریں ۔ اس کے لیے درجِ ذیل دو طریقے اختیار کرنا چاہتا ہے: ۱ ۔ یہ زمین ایک ٹرسٹ کے نام پر خریدی جائے گی اور فقیر اس ٹرسٹ سے فائدہ حاصل کرے گا، اور فقیر اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اسی ٹرسٹ کے آدمی کو فروخت کرے گا ۔
۲ ۔ زمین کسی کمپنی کے نام سے خریدی جائے گی اور فقیر اس کمپنی میں شریک ہوگا، یعنی زمین کے حصے بنا پر فقراء کو ان حصوں کا مالک بنا دیا جائے گا اور پورا اختیار ہوگا جس کو بیچنا چاہے بیچ سکتا ہے، اس کو مکمل اختیار حاصل ہے، اب مذکورہ بالا طریقوں کے مطابق زکوٰۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
پہلے طریقہ کے مطابق زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی، وجہ اس کی یہ ہے کہ فقیر کی تملیک نہیں پائی گئی بلکہ زمین ٹرسٹ کی ملکیت ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے ۔
۲ ۔ دوسرے طریقہ میں فقیر کو زمین کے حصے کا مالک بنایا اور مکمل اختیار دے دیا، اس لیے زکوٰۃ ادا ہو گئی ۔
ملاحظہ ہو علامہ حصکفی رحمه الله در مختار میں فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے اباحت کافی نہیں؛
ويشترط أن يكون الصرف تمليكاً لا إباحة. (الدر المختار: ۲/۳٤٤، سعيد).
قال في البحر: هي تمليك المال من فقير مسلم
بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى، لقوله تعالى: ﴿وآتوا الزكاة﴾ [البقرة: ٤۳]، والإيتاء هو التمليك. (البحر الرائق: ۲/۲۱٦، دار المعرفة).
وفي التبيين: قال: وآتوا الزكاة، يقتضي التمليك ولا تتأدى بالإباحة حتى لو كفل يتيماً فأنفق عليه ناوياً للزكاة لا يجزيه. (تبيين الحقائق: ۱/۲۵۱، ملتان).
مزید تفصیل ملاحظہ ہو : (قاموس الفقہ: ٤/۸۸، و فتاوی رحیمیہ: ٤/۳۳، الاحسان، دیوبند، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۳/۲۱۰، ط؛ المجلس العلمی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.