حکومت کے ٹیکس کی رقم واپس کرنے پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
ایک خیراتی ادارہ ہے جو لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتا ہے اور فقراء میں تقسیم کرتا ہے، عام طور پر فقراء کی ضروریات کا سامان، اور کھانے پینے کی اشیاء خرید کر تقسیم کرتا ہے، اشیاء پر حکومت کی طرف سے ٹیکس ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ ادارہ غیر نفع بخش ہے اس وجہ سے حکومت ٹیکس کی رقم ادارہ کو واپس کر دیتی ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے خریدی اشیاء کے ٹیکس کی رقم واپس ہونے پر وہ رقم زکوٰۃ کی مد میں شامل ہو گی یا للہ اور نفلی صدقہ کے حکم میں ہو گی؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جو ٹیکس حکومت نے لیا، حکومت کے مسلط ہونے کی وجہ سے حکومت اس کی مالک بن گئی، پھر جب حکومت نے ادارہ کو واپس کیا تو اب یہ حکومت کی طرف سے ادارہ کو ہدیہ ہے جو نفلی صدقہ کی مد میں شامل ہوگا، نیز آج کل اکثر ٹیکس حد سے زیادہ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی واپسی کی کوشش کر سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
فأما في زماننا إنما يوجد أكثر النوائب بطريق الظلم ومن تمكن من دفع الظلم عن نفسه
ٖ
فذلك خير له. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۳۵، دار الفكر، بيروت).
حکومت کا استیلاء سببِ ملک ہے، جب حکومت نے بطورِ ٹیکس کچھ رقم پر قبضہ کر لیا تو اب حکومت اس رقم کی مالک بن گئی ۔ علامہ ظفر احمد عثمانی رحمه الله مسلمان کے کافر سے میراث حاصل کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں:
يجوز للمسلم أن يرث من الكافر بسبب استيلاء الحكومة الكافرة على مال الكافر أولاً ثم دفعها إلى المسلم بقانونها واستيلاء الكافر سبب للملك عندنا، والله أعلم، أو يقال: استولى المسلم على مال الكافرة بقوة سلطان أهل الحرب وصار تملكاً له بالاستيلاء ودليل التملك بقوة سلطان أهل الحرب ما ذكر في شرح السير. (
امداد الاحکام: ٤/٦۲۸) ۔
وفي الفتاوى الهندية: الباب الخامس في استيلاء الكفار: إذا غلب كفار الترك على كفار الروم فسبوهم وأخذوا أموالهم ملكوها فإن غلبنا على الترك حل لنا ما نجده مما أخذوه
الخ. (الفتاوى الهندية: ۲/۲۲٤). (وكذا في الدر المختار: ٤/۱٦۰، سعيد، والبحر الرائق: ۵/۱۰۲، دار المعرفة، وتبيين الحقائق: ۳/۲٦۰، إمداديه ملتان، وفتح القدير: ٦/۳، ط: دار الفكر).
قاموس الفقہ میں مولانا خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
استلاء کے معنی غالب آ جانے کے ہیں، فقہ کی اصطلاح میں دار الحرب کے کافروں کے مسلمانوں یا کسی دوسری مملکت کے کافروں ہی پر غالب آ جانے کو کہتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک اہل کفر اگر کسی کے مال پر غلبہ حاصل کر لیں تو وہی اس کے مالک قرار پاتے ہیں، اس طرح اگر غیر مسلموں کی ایک مملکت کسی دوسری مملکت کے مال پر غاصبانہ قبضہ کر لے تو وہ اس کی مالک ہو جائے گی اور مسلمانوں کے لیے ان سے ایسی اشیاء کا خریدنا درست ہوگا، اور خریدنے کے بعد وہ اس کے جائز مالک قرار پائیں گے ۔ (قاموس الفقہ: ۲/۱۳۱، ۱۳۲) ۔
اشرف الاحکام جو امداد الفتاوی کا تتمہ ہے اس میں مرقوم ہے:
فرمایا: استیلاء کافر موجبِ ملک ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک ۔ بحوالہ ادب الاعلام، ص: ۲۲۰ ۔ (اشرف الاحکام، ص ۲۳۸، میراث کے احکام، ط: ادارہ اسلامیات، لاہور) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب حکومت ٹیکس کی رقم کی مالک بن گئی پھر ادارہ کو وہ رقم دے رہی ہے تو یہ حکومت کی طرف سے عطیہ سمجھا جائے گا جو نفلی صدقہ کے حکم میں ہوگا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.