زکوٰۃ کی رسید سے ٹیکس کم کرانے کا حکم:
Question
کسی ادارہ یا جمعیت کو زکوٰۃ ادا کرتے وقت وہ ادارہ یا جمعیت ایک رسید دیتی ہے، اگر اس رسید کو ہم حکومت کے ٹیکس میں دکھا دے تو ایک فیصد ٹیکس منہا ہو جاتا ہے ۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا زکوٰۃ کی رسید سے حکومت کا انکم ٹیکس منہا کرانا درست ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بعض حکومتوں کے ٹیکس اکثر و بیشتر ظالمانہ ہوتے ہیں لہذا اس کو کم کرنے کے لیے تدبیر اختیار کرنا اور کم کرانا جائز ہے، پس جو انکم ٹیکس حکومت کی طرف سے ظلماً عائد کیا جاتا ہے بنا بریں زکوٰۃ کی رسید دکھا کر کم کرانا درست ہے ۔ البتہ وہ ٹیکس جو واجبی ہیں اور ان کا فائدہ کسی نہ کسی شکل میں ہ میں پہنچتا ہے ایسے ٹیکس کا کم کرانا زکوٰۃ کی رسید دکھا کر جائز نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
فأما في زماننا إنما يوجد أكثر النوائب بطريق الظلم ومن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فذلك خير له
(المبسوط للإمام السرخسي: ۱۰/۳۵، ط: دار الفكر، بيروت).
(وكذا في فتاوى الشامي: ۲/۳۳٦، سعيد، و۵/۳۳۲، سعيد، وفتح القدير: ۷/۲۳۳، وشرح العناية: ۷/۲۲۲، وحاشية الطحطاوي علي الدر: ۱/۳۹۰).
انکم ٹیکس یہ نا واجبی ٹیکس ہے ۔ ملاحظہ ہو مولانا خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
انکم ٹیکس نا واجبی ٹیکس ہے اور نا واجب حد تک وصول کیا جاتا ہے اس لیے اگر بینک میں کسی مجبوری کے تحت ایسی اسکیم میں رقم رکھنی پڑی جس میں سود حاصل ہوتا ہے، اور سود مل گیا تو اس سود سے انکم ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے،
بشرطیکہ بینک یا وہ ادارہ سرکاری ہی ہو
مکان کا ٹیکس ان بلدیہ سہولتوں کے عوض وصول کیا جاتا ہے، جو حکومت عوام کو فراہم کرتی ہے، یہ ایک جائز اور منصفانہ ٹیکس ہے، جس کا نفع ٹیکس دہندہ کی طرف لوٹتا ہے، لہذا اگر اس میں سود کی رقم ادا کی جائے تو یہ سود سے استفادہ کرنے کے مترادف ہوگا ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۳۱۸، ۳۱۹) ۔
معلوم ہوا کہ نا واجبی ٹیکس کو کم کرانا درست ہے جب کہ واجبی ٹیکس کا نفع ٹیکس دہندہ کی طرف لوٹتا ہے اس لیے زکوٰۃ کی رسید دکھا کر کم کرانا ناجائز ہو گا کیونکہ زکوٰۃ سے استفادہ کے زمرہ میں آئے گا اور یہ ناجائز ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص ٤۰۰ ۔ ٤۰۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.