انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے سودی قرض لینے کا حکم:
Question
کیا انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے سودی قرضہ لے سکتے ہیں؟ کیونکہ جن کے قرضے زیادہ ہوتے ہیں گورنمنٹ ان پر کم ٹیکس لگاتی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اولی اور بہتر تو یہی ہے کہ ہر سودی معاملہ سے بچا جائے، لیکن اگر حکومت کی طرف سے انکم ٹیکس ظلماً بہت زیادہ لگایا جاتا ہے تو بوقتِ ضرورت دفعِ ضرر کے لیے سودی قرض کی گنجائش ہونی چاہیے ۔ فقہاء نے دفعِ ضرر کے لیے رشوت دینے کی بھی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو جدید فقہی مباحث میں ہے:
انکم ٹیکس سے بچنے اور قیمتی اشیاء خریدنے کے لیے رشوت و سود دینے کا حکم:
جواب: ۔ یہ صورت بلاشبہ جائز ہے کیوں کہ اس میں مسلمان کا نفع نیز دفع ضرر ہے، قائلین عدمِ جواز کے نزدیک بھی گنجائش ہونا چاہیے ہونا چاہیے کیوں کہ تجارت کے ذریعہ ترقی کرنا، کسی قسم کا کوئی مال ٹرک وغیرہ خریدنا، یہ ہمارے لیے حلال ہے اور ہم کو اس کا حق حاصل ہے، ہم جب اس حق کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو ٹیکس وغیرہ کے سارے قضیے کھڑے ہو جاتے ہیں، تو اگر چہ یہ صورت اضطرار کی نہیں لیکن ظلم ضرور ہے جس میں کھلا ہوا ہمارا ضرر ہے اس ظلم و ضرر سے بچنے کے لیے اس طرح کی صورتیں بھی جائز ہونی چاہیے ۔ (جدید فقہی مباحث:
۲
/
۴۹۹
) ۔جواب: ۔ یہ صورت بلاشبہ جائز ہے کیوں کہ اس میں مسلمان کا نفع نیز دفع ضرر ہے، قائلین عدمِ جواز کے نزدیک بھی گنجائش ہونا چاہیے ہونا چاہیے کیوں کہ تجارت کے ذریعہ ترقی کرنا، کسی قسم کا کوئی مال ٹرک وغیرہ خریدنا، یہ ہمارے لیے حلال ہے اور ہم کو اس کا حق حاصل ہے، ہم جب اس حق کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو ٹیکس وغیرہ کے سارے قضیے کھڑے ہو جاتے ہیں، تو اگر چہ یہ صورت اضطرار کی نہیں لیکن ظلم ضرور ہے جس میں کھلا ہوا ہمارا ضرر ہے اس ظلم و ضرر سے بچنے کے لیے اس طرح کی صورتیں بھی جائز ہونی چاہیے ۔ (جدید فقہی مباحث:
۲
/
۴۹۹
) ۔
بطورِ استیناس و استشہاد قاعدۂ فقہیہ ذکر کیا جاتا ہے، ملاحظہ ہو علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله فرماتے ہیں:
"الضرر يزال" أصلها قوله ﷺ: "لا ضرر ولا ضرار"
ويبتني على هذه القاعدة كثير من أبواب الفقه، فمن ذلك الرد بالعيب وجميع أنواع الخيارات والحجر بسائر أنواعه على المفتي به
الخ. (الأشباه والنظائر: ۱/۲۵۰، القاعدة الخامسة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.