سودی رقم رشوت میں دینے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص کو اپنے کسی ضروری کام کی وجہ سے رشوت دینے کی ضرورت پڑ جائے تو سود کی رقم اس میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
سودی رقم کو رشوت دینے میں استعمال کرنا جائز اور درست نہیں، اس میں دہرا گناہ ہوگا ایک سودی رقم استعمال کرنے کا اور دوسرا رشوت دینے کا ۔
ملاحظہ ہو آپ کے مسائل میں ہے:
سسود حرام ہے اور رشوت بھی حرام ہے، حرام چیز کو حرام میں خرچ کرنا کیسا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ سود کی رقم رشوت میں دی جا سکتی ہے کہ نہیں؟
جدہرا گناہ ہوگا سود لینے کا اور رشوت دینے کا ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲٤۲) ۔
محمود الفتاوی میں ہے:
سوال: جن زمینوں میں کھیتی کی جاتی ہے، ان میں مکانات بنانے کے لیے حکومت کی طرف سےN-A کی کاروائی کرنی پڑتی ہے، جس میں حکومت اور افسر حضرات خوب پریشان کرتے ہیں، حکومت این اے کی کاروائی کے لیے رقم لیتی ہے اور افسر حضرات بھی رشوت مانگتے ہیں تو کیا ان دونوں جگہوں میں سود کی رقم دے سکتے ہیں؟
الجواب: این ۔ اے کی کاروائی میں جتنی رقم قانونی طور پر حکومت وصول کرتی ہے، اس میں حکومتی بینک سے ملی ہوئی سود کی رقم ادا کر سکتے ہیں، لیکن افسران کو دی جانے والی رشوت میں نہیں دی جا سکتی، اس لیے کہ اس صورت میں وہ رقم حکومت کے پاس نہیں جاتی ۔ (محمود الفتاوی: ۳/۷۲، باب الربا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب: انشورنس کے احکام کا بیان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.