سرکاری ٹیکس آفس میں ملازمت کرنے کا حکم:
Question
میں ایک حکومت کے ٹیکس آفس میں کام کرتا ہوں، میرا کام ٹیکس انسپیکٹر (Tax inspector) کا ہے لوگوں کے اکاؤنٹ (Account) دیکھ کر جنہوں نے اب تک ٹیکس ادا نہیں کیا ان کا پیچھا کرنا ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے ایسی ملازمت جائز ہے جب کہ میں حکومت کے ظالمانہ ٹیکس بھی وصول کرتا ہوں، اور کیا میرے لیے تنخواہ لینا حلال ہو گا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ حکومت کا تمام ٹیکس ظالمانہ نہیں ہوتا بلکہ حکومت چلانے اور عوام کے مفاد کے لیے ٹیکس لینا کبھی ناگزیر ہوتا ہے، ہاں بعض ٹیکس ظلماً بھی لیے جاتے ہیں، لیکن جب غیر مسلم حکومت لوگوں کے اموال پر قبضہ کر لے تو حکومت ان اموال کی مالک بن جاتی ہے، اس کو فقہ کی اصطلاح میں استیلاء کہتے ہیں، چنانچہ حکومت کے ٹیکس آفس میں ملازمت کرنا اور لوگوں سے ٹیکس وصول کرنا اور اس پر تنخواہ لینا جائز اور درست ہے ۔ کیوں کہ آپ حکومت کی جانب سے وکیل بالاجرت ہیں اور وکالت کی اجرت جائز اور درست ہے ۔
دلائل ملاحظہ ہو : علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
فأما في زماننا إنما يوجد أكثر النوائب بطريق الظلم ومن تمكن من دفع الظلم عن نفسه
ٖ
فذلك خير له. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۳۵، دار الفكر، بيروت).
حکومت کا استیلاء سببِ ملک ہے، جب حکومت نے بطورِ ٹیکس کچھ رقم پر قبضہ کر لیا تو اب حکومت اس رقم کی مالک بن گئی ۔ ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
قوله في المتن وإن غلبوا على أموالنا وأحرزوها بدارهم ملكوها، وبه قال مالك رحمه الله وأحمد رحمه الله إلا أن عند مالك رحمه الله يملكونها بمجرد الاستيلاء بدون الإحراز. (تبيين الحقائق: ۳/۲٦۰، القاهرة).
فتح القدير
میں مرقوم ہے:
قوله وإذا غلب الترك على الروم أي كفار الترك على كفار الروم فسبوهم وأخذوا أموالهم ملكوها، لأن الاستيلاء قد تحقق على مال مباح
قوله تعالى ﴿للفقراء المهاجرين﴾ [الحشر: ۸] سماهم فقراء، والفقير من لا يملك شيئاً، فدل على أن الكفار ملكوا أموالهم التي خلفوا وهاجروا عنها. (فتح القدير: ٦/۳، ط: دار الفكر).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٤/۱٦۰، سعيد).
علامہ ظفر احمد عثمانی رحمه الله مسلمان کے کافر سے میراث حاصل کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں:
يجوز للمسلم أن يرث من الكافر بسبب استيلاء الحكومة الكافرة على مال الكافر أولاً ثم دفعها إلى المسلم بقانونها واستيلاء الكافر سبب للملك عندنا، والله أعلم، أو يقال: استولي المسلم على مال الكافرة بقوة سلطان أهل الحرب وصار تملكاً له بالاستيلاء ودليل التملك بقوة سلطان أهل الحرب ما ذكر في شرح السير.
(امداد الاحکام: ٤/٦۲۸) ۔
وفي الفتاوى الهندية: الباب الخامس في استيلاء الكفار: إذا غلب كفار الترك على كفار الروم فسبوهم وأخذوا أموالهم ملكوها فإن غلبنا على الترك حل لنا ما نجده مما أخذوه
الخ. (الفتاوى الهندية: ۲/۲۲٤). (وكذا في الدر المختار: ٤/۱٦۰، سعيد، والبحر الرائق: ۵/۱۰۲، دار المعرفة، وتبيين الحقائق: ۳/۲٦۰، وفتح القدير: ٦/۳).
قاموس الفقہ میں مولانا خالد سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
استیلاء کے معنی غالب آ جانے کے ہیں، فقہ کی اصطلاح میں دار الحرب کے کافروں کے مسلمانوں یا کسی دوسری مملکت کے کافروں ہی پر غالب آ جانے کو کہتے ہیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک اہل کفر اگر کسی کے مال پر غلبہ حاصل کر لیں تو وہی اس کے مالک قرار پاتے ہیں، اس طرح اگر غیر مسلموں کی ایک مملکت کسی دوسری مملکت کے مال پر غاصبانہ قبضہ کر لے تو وہ اس کی مالک ہو جائے گی اور مسلمانوں کے لیے ان سے ایسی اشیاء کا خریدنا درست ہو گا، اور خریدنے کے بعد وہ اس کے جائز مالک قرار پائیں گے ۔ (قاموس الفقہ: ۲/۱۳۱، ۱۳۲) ۔
اشرف الاحکام جو امداد الفتاوی کا تتمہ ہے اس میں مرقوم ہے:
فرمایا: استیلاء کافر موجبِ ملک ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک ۔ بحوالہ ادب الاعلام، ص: ۲۲۰ ۔ (اشرف الاحکام، ص ۲۳۸، میراث کے احکام، ط: ادارہ اسلامیات، لاہور) ۔ (و كذا فی کتاب النوازل: ۱۲/۳۷۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.