زکوٰۃ ادا کرتے وقت حکومت کا ٹیکس وضع کرنے کا حکم:
Question
ٹیکس جو حکومت کی طرف سے لازم ہوتا ہے اگر ادا نہیں کیا یہاں تک کہ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت آگیا تو وضع کیا جائے گا یا کل رقم پر زکوٰۃ ہو گی، یعنی ٹیکس مانع عن وجوب الزکاۃ ہے یا نہیں؟
Answer
اگر حکومت کی طرف سے ٹیکس لازم ہو جائے اور اس کی مقدار متعین ہو جائے، مثلاً یہ بتلایا گیا آپ کی دکان پر ہم نے اس سال ۵۰ ہزار کا ٹیکس لگایا جو آپ کو ادا کرنا پڑے گا، تو یہ دین ہے جس کو وضع کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی، ہاں اگر دکاندار یا کمپنی کے مالک نے کو شش کر کے اس ٹیکس کو ۳۰ ہزار کر لیا اور ۲۰ ہزار بچ گئے تو ان ۲۰ ہزار کی زکوٰۃ بعد میں ادا کر دے، کیوں کہ یہ دین سے مستثنیٰ ہو گئے ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
وسببها أي سبب افتراضها أي الزكاة ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد ولو كفالة أو مؤجلاً ولو صداق زوجته المؤجل للفراق أو نفقة لزمته بقضاء أو رضي بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب.
قوله له مطالب أي بالجبر والحبس وقوله من جهة العباد أي طلباً واقعاً من جهة عبد وهو إما الإمام في الأموال الظاهرة
أو الدائن في دين العباد. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۹۰).
شرح العنایہ میں ہے:
وأما النوائب فهي ما يلحقه من جهة السلطان من حق أو باطل أو غير ذلك مما ينوبه أنها ديون في حكم توجه المطالبة بها. (شرح العناية على الهداية: ۷/۲۲۲).
فتح القدیر میں ہے:
أما في زماننا فأكثر النوائب تؤخذ ظلماً ومن دفع الظلم عن نفسه فهو خير له وإن أراد الإعطاء فليعط من هو عاجز عن دفع الظلم عن نفسه. (فتح القدير: ۷/۲۲۳، دار الفكر).
احسن الفتاوی میں ہے:
دین خواہ مؤجل ہو یا معجل مانع وجوبِ زکوٰۃ ہے قول راجح کے مطابق ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.