قیدی کی رہائی کے ضروری اخراجات میں زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #252Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

جو مسلمان بے گناہ اسلام کے نام پر عرصہ دراز سے مقید ہے، کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، اور مقدمہ لڑنے میں خرچہ بہت زیادہ اٹھانا پڑتا ہے، کیا زکوٰۃ کی رقم سے اس کی رہائی کے لیے مقدمہ لڑا جا سکتا ہے؟ یا د رہے کہ یہ مقدمہ ان کی اجازت سے داخل کیا جاتا ہے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

قیدی اگر فقیر اور مستحق زکوٰۃ ہے یعنی صاحب نصاب نہیں ہے تو وہ زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا دے، وکیل اس کی طرف سے قبضہ کرنے کے بعد اس کے حکم کے موافق خرچ کرے گا ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:

ويشترط أن يكون الصرف تمليكاً لا إباحة كما مر لا يصرف إلى بناء نحو مسجد ولا إلى كفن ميت وقضاء دينه إلى وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء. (الدر المختار: ۲/۳٤٤، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:

وكذلك من عليه الزكاة لو أراد صرفها إلى بناء المسجد أو القنطرة لا يجوز، فإن أراد الحيلة، فالحيلة أن يتصدق به المتولي على الفقراء، ثم الفقراء يدفعونه إلى المتولي ثم المتولي يصرف إلى ذلك، كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۷۳).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
زکوٰۃ کا روپیہ غریب شخص کو دیا جائے پھر وہ اپنی طرف سے مسجد یا مدرسہ کے مقدمہ میں یا اور کسی کام کے لیے دے دے تو درست ہے، براہِ راست وہ پیسہ مسجد یا مدرسہ یا کسی غریب کے مقدمہ وغیرہ میں صرف کرنا یا تعمیر میں لگانا، تنخواہ میں دینا درست نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٤/۲٤۱، ط: محمودیہ، میرٹھ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.