غیر مستحق زکوٰۃ کا زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنے کے بعد اس کی تلافی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #254Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص کو کسی نے زکوٰۃ کی رقم دی جب کہ وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا ۔ پھر بھی اس نے وہ رقم استعمال کر لی، اب وہ شخص بہت شرمندہ ہے، تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہو گی؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مالدار کے لیے زکوٰۃ کا مال لینا جائز نہیں تھا پھر جب خود استعمال کیا تو گنہگار ہوا، اب اس کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ اپنے اِس فعل سے توبہ و استغفار کرے، اور اس کے بقدر رقم صدقہ کرے، یا معطی کو واپس کر دے ۔ لیکن چونکہ واپس کرنے میں چہ میگوئیاں ہونے اور دشمنی اور بد گمانی کا خطرہ ہے؛ اس لیے اتنی مقدار رقم فقیر پر صدقہ کر دے ۔ در مختار میں ہے:

باب المصرف، أي مصرف الزكاة والعشر:

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكاً) لا إباحة كما مر (لا) يصرف

(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال، فكان كمن له نصاب سائمة لا تساوي مئة درهم

وفي رد المحتار: ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب، قيل يتصدق، وقيل يرد على المعطي

(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۵۳، سعيد).

فتاوی قاسمیہ میں ہے: اللہ تعالی نے زکوٰۃ کو فقراء اور مساکین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فرض فرمایا ہے؛ اس لیے نہیں کہ زکوٰۃ کے ذریعہ سے کسی کی تجارت کو فروغ دیا جائے اور مستحقین کو اس سے محروم کر دیا جائے اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ کے مستحق صرف فقیر و مسکین ہیں:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالمَسَاكينِ

﴾ (التوبة: ٦۰).

نیز حدیث شریف میں ایسے شخص کو مال زکوٰۃ حاصل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا جو صحیح و تندرست اور کمانے کی قدرت رکھتا ہو:
لا يحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوى. (سنن الترمذي: ٦۵۸، ۱/۱٤۲، باب ما جاء في فضل الصدقة). (
فتاوی قاسمیہ: ۱۰/٦۷۹) ۔
اسلامی فقہ میں ہے: البتہ اگر لینے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ روپیہ یا غلہ عشر یا زکوٰۃ کا تھا تو اس کو واپس کر دینا چاہیے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/٤۷۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.