دنیوی علوم حاصل کرنے والی لڑکی کو زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم:
Question
ایک لڑکی جو دنیوی علوم سیکھ رہی ہے اور مستحق زکوٰۃ ہے تو زکوٰۃ کی رقم اس کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں دنیوی علوم حاصل کرنے والی بالغ لڑکی اگر مستحق زکوٰۃ ہے تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويدفع إلى امرأة غني إذا كانت فقيرة، وكذا إلى البنت الكبيرة إذا كان أبو ها غنياً لأن قدر النفقة لا يغنيها. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹، باب المصرف).
نیز مذکور ہے:
ويجوز صرفها إلى من لا يحل له السؤال إذا لم يملك نصاباً، وإن كانت له كتب تساوي مأتي درهم إلا أنه يحتاج إليها للتدريس أو التحفيظ أو التصحيح يجوز صرف الزكاة إليه كذا في فتاوى قاضي خان، سواء كانت فقهاً أو حديثاً أو أدباً هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹، باب المصرف).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر مستحق کو تملیک کر دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اگر چہ وہ انگریزی پڑھتا ہو لیکن دیندار کو دینا افضل ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۵۵۹، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.