مکان کی توسیع میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم:
Question
میرے ایک غریب رشتہ دار کے پاس مکان ہے مگر بہت چھوٹا ہے، اس کی حاجت سے بھی چھوٹا ہے نیز وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہے کیا گھر بڑا کرنے کے لئے اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مستحقِ زکوٰۃ یعنی جس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد بقدرِ نصاب مال نہ ہو اس کو گھر کی مرمت یا توسیع کے لئے زکوٰۃ کی رقم دینا درست ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
مصرف الزكاة والعشر هو فقير المقابل للمسكين لا للغني وهو من له أدني شيء أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
وفي الشامي: والحاصل أن المراد هنا الفقير المقابل للمسكين لا للغني، دون نصاب أي نام فاضل عن الدين فلو مديوناً فهو مصرف كما يأتي، مستغرق في الحاجة، كدار السكنى وعبيد الخدمة وثياب البذلة وآلات الحرفة وكتب العلم للمحتاج إليها تدريساً أو حفظاً أو تصحيحاً
. والحاصل أن النصاب قسمان (۱) موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين
۔
(۲) وغير موجب لها وهو غيره، فإن كان مستغرقاً بالحاجة لما لكه أباح أخذها وإلا حرمه
. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۳۹، باب المصرف، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
فقیر کو نصاب سے کم کر کے قسط وار رقم دیتا رہے اور وہ فقیر رقم کو تعمیر میں خرچ کرتا جائے، اگر فقیر کے پاس زمین نہیں ہے تو پہلے زمین خرید کر مالک بنایا جائے اور اس کے بعد قسط وار زکوٰۃ کی رقم دیتا رہے اور فقیر تعمیر
کرتا رہے، اور اسی طرح مکان مکمل ہو جائے تو یہ صورت جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۴۹۰، و ایضاح المسائل: ص ۱۱۵، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.