تنخواہ دار حاجتمند کے لئے زکوٰۃ لینے کا حکم:
Question
ایک شخص ملازمت کرتا ہے اس کی بیوی کا ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے دوا، ہسپتال کی فیس وغیرہ اخراجات زیادہ ہو گئے، ماہانہ تنخواہ سے ان تمام اخراجات کو پورا نہیں کر سکتا ہے لہذا اس شخص کے لئے زکوٰۃ لینے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے لئے زکوٰۃ لینے کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
مصرف الزكاة والعشر
. هو فقير، وهو من له أدني شيء أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
۔
(الدر المختار مع الشامي: ۲/۳۳۹، كتاب الزكاة، باب المصرف، سعيد)
۔
فتح القدیر میں ہے:
والفقير من له أدني شيء وهو ما دون النصاب أو قدر النصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة
ويجوز صرف الزكاة لمن لا تحل له المسألة بعد كونه فقيراً ولا يخرجه عن الفقر ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة
۔
(فتح القدير: ۲/۲٦۱، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، دار الفكر)
۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب وإن كان صحيحاً مكتسباً كذا في الزاهدي
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹، في المصارف)
۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس کی ضروریات تنخواہ سے پوری نہ ہوں وہ بھی مستحقِ زکوٰۃ ہے اور اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۵۲۵، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
جس کی آمدنی قلیل ہو اور وہ مالکِ نصاب نہ ہو یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مالک نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۵۲) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
کسی غیر مستطیع مریض کو اس کے علاج کے واسطے زکوٰۃ کا روپیہ دیا جا سکتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۷۴، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.