حیلۂ شرعی سے زکوۃ کی رقم مسجد میں لگانے کا حکم:
Question
کیا زکوۃ کا روپیہ مسجد میں حیلۂ شرعی کر کے لگا سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
سخت ضرورت کے وقت زکوۃ کا روپیہ شرعی حیلہ کر کے مسجد وغیرہ کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں، لیکن عام طور پر چونکہ اس کی ضرورت نہیں ہو تی لہذا مسجد کو للہ کی رقم سے بنا نا چاہیے اور بلا ضرورت حیلوں اور تدبیروں کو اختیار نہیں کرنا چاہیے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وكذلك من عليه الزكاة لو أراد صرفها إلى بناء المسجد أو القنطرة لا يجوز، فإن أراد الحيلة فالحيلة: أن يتصدق به المتولي على الفقراء ثم الفقراء يدفعونه إلى المتولي ثم المتولي يصرف إلى ذلك كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۷۳).
الدر المختار میں ہے:
وحيلة التكفين بها التصدق على الفقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد الخ.
رد المحتار میں ہے:
(قوله وكذا) الإشارة إلى الحيلة. (الدر المختار ورد المحتار: ۲/۲۷۱، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
سخت ضرورت کی حالت میں اس طرح حیلہ کر کے زکوۃ کی رقم مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے کہ کسی مستحق زکوۃ کو وہ رقم بطور تملیک دے دی جائے اور وہ قبضہ کر کے اپنی طرف سے مسجد میں لگا دے یا کسی اور کام میں خرچ کر دے جس میں براہ راست زکوۃ نہ خرچ کی جا سکتی ہو ۔ (کفایت المفتی ٤/ ۳۰۵) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر کوئی شخص حیلہ کرنے پر مجبور ہے اور اس نے زکوۃ کے حقدار کو بلا کچھ ک ہے مالک و مختار بنا دیا پھر اس کو کارِ خیر میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس نے اس بات کو بخوشی منظور کر لیا تو زکوۃ ادا ہو جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ ۲/۸) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.