چرمِ قربانی کی رقم کو مسجد میں لگانے کا حکم:
Question
قربانی کے جانور کی کھال کو بیچ دیا اور صدقہ کی نیت سے بیچ دیا تو وہ رقم مسجد میں خرچ ہو سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
قربانی کے جانور کی کھال بیچ کر حاصل شدہ رقم کو مسجد میں صدقہ کی نیت سے دینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس کا حکم زکوۃ کا ہے اور زکوۃ میں تملیکِ فقیر ضروری ہے اور مسجد بنفسہٖ فقیر نہیں ہے ۔
الدر المختار میں ہے:
فإن بيع اللحم أو الجلد به أي بمستهلك أو بدراهم تصدق بثمنه. (الدر المختار كتاب الأضحية: ٦/۳۲۸، سعيد).
(كتاب الهبة: والصدقة كالهبة لا تصح غير مقبوضة). باب المصرف للزكاة وجازت التطوعات من الصدقات وغلة الأوقاف لهم. (الدر المختار، باب المصرف: ۲/۳۵۱، سعيد).
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ قیمت چرم قربانی میں صدقہ کرنا واجب ہے نیز اس میں تملیک بھی ضروری ہے کیونکہ یہ زکوۃ کی طرح ہے لہذا چرم قربانی کی قیمت کا مسجد میں لگانا جائز نہیں ہے ۔
بعض افغانی علماء یہ فرماتے ہیں کہ ثمن اس وقت واجب التصدق ہے جب تمول کی نیت سے فروخت کرے تو اس میں خبث و خرابی آتی ہے لیکن اگر بنیتِ تصدق ہو تو اس میں خرابی نہیں آئے گی، ہاں صدقہ کی نیت کی وجہ سے اس کو واجب التملیک فرماتے ہیں، نیز وہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ رقم زکوۃ و فطرانہ کی طرح نہیں ہے، بلکہ یہ گوشت کا بدل ہے اور گوشت میں تملیک ضروری نہیں، بلکہ گوشت کو خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے، اور منیٰ میں پہلے زمانہ میں ذبح کرنے کے بعد تھوڑا سا لے کر بقیہ کو چھوڑ دیتے تھے جو یقیناً تملیک نہیں ہے، اور صدیوں اس پر عمل ہوتا رہا، پرندے اور کتے گوشت کھاتے تھے یا سڑ جاتا تھا، تو اس کو کیوں خواہ مخواہ زکوۃ کی طرح بنایا جائے، باقی فقہاء اس کو واجب التملیک اس لیے فرماتے ہیں کہ اس کی خرید و فروخت اور تجارت کا دروازہ نہ کھل جائے، اور تمول کا ذریعہ نہ بن جائے، الغرض یہ رقم نذر و زکوۃ کی طرح نہیں، یہ رقم واجب التصدق لغیرہ ہے، اس لیے مسجد میں خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی فجر اور عصر کی نماز کے بعد نذر کی ہوئی نماز پڑھ لے یا طواف کی دو رکعتیں پڑھ لے تو یہ مکروہ ہے، حالانکہ واجبات کو فجر اور عصر کے بعد پڑھ سکتا ہے، اس لیے کہ یہ واجب لغیرہ ہے "یعنی جس کا وجوب بندے کے فعل پر موقوف ہو" نفل کے حکم میں ہے اس کا وجوب عارضی ہے کما فی الدر و الطحطاوی: ۱/۱۸۱ ۔ یا نفل کو فاسد کر دیا اور عصر اور فجر کے بعد پڑھ لی تو مکروہ ہے معلوم ہوا کہ عارضی وجوب اصلی نفل کے حکم میں ہے، یہاں بھی قربانی کا گوشت و پوست اصل کے اعتبار سے واجب التملیک نہیں، بلکہ نفلی صدقات کی طرح ہے غنی کو بھی دے سکتے ہیں، ہاں بیع کے بعد اس میں عارضی طور پر تملیک کا وجوب اس کی نیتِ فاسدہ کی وجہ سے پیدا ہو گیا، لہذا جب فاسد نیت نہیں ہے بلکہ اس کو صدقہ کی نیت سے بیچتا ہے تو اصل کے اعتبار سے چونکہ یہ نفلی صدقہ ہے لہذا مسجد میں اس کی قیمت کو خرچ کر سکتا ہے، بظاہر افغانی علماء کی بات دقیق ہے اور ان کے علاقہ کے اعتبار سے استحسان للضرورۃ کے درجہ میں بھی ہے، لیکن چونکہ ہمارے اکابر دیوبند کا مسلک کتبِ فقہ کے ظاہر کے موافق ہے، لہذا بندۂ عاجز کے خیال میں اگر صاحبِ قربانی کھال کو فروخت کرنے سے قبل پوری کھال مسجد کو دے دے اور مسجد کے متولی اس کو فروخت کر دے تو پھر اس کی قیمت مسجد پر خرچ ہو سکتی ہے، اور مسجد کھال کی مالک بن سکتی ہے، اور یہ وقف بھی نہیں لہذا اس کو مسجد و مدرسہ کی دوسری ضروریات پر خرچ کر سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو قال وهبت داري للمسجد وأعطيتها له صح ويكون تمليكاً فيشترط التسليم كما لو قال وقفت هذه المئة للمسجد يصح بطريق التمليك إذا سلمه للقيم كذا في الفتاوى العتابية. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۰).
شامی میں ہے:
لو غرس شجرة للمسجد فثمرتها للمسجد. (فتاوى الشامي: ۱/٦٦۱، سعيد).
نیز حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب کی تحقیق بھی یہی ہے کہ قربانی کی کھالوں کی نوعیت زکوۃ و صدقات واجبہ سے بالکل مختلف ہے، اس لیے کہ زکوۃ کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی، وجہ یہ ہے کہ قربانی کی کھال نہ تو نصاب کا جز ہے اور نہ فقیر کو دینا ضروری ہے، بلکہ خود بھی استعمال کر سکتے ہیں، صرف قیمت خود خرچ کرنا منع ہے، پھر اس میں ہاشمی اور غیر ہاشمی کی کوئی قید نہیں ہے، نیز صدقہ کے باوجود اس سے اپنا نفع منقطع کرنے کی بات بھی نہیں یعنی اگر کسی مسجد میں وقف کرنے کے بعد اس جائے نماز پر خود نماز پڑھ لے تو درست ہے ۔ (ملخص از زکوۃ اور مسئلہ تملیک، از حضرت مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ مزید تفصیلی دلائل کے لیے ملاحظہ ہو ص ۱۵۱ ۔ ۱۵۵) ۔
نیز بعض علماء صدقہ واجبہ اور واجب التصدق میں بھی فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صدقہ واجبہ جیسے زکوۃ اور صدقہ الفطر میں تملیک ضروری ہے لیکن واجب التصدق میں فقیر کی تملیک ضروری نہیں بلکہ صرف اپنی ملکیت سے نکالنا کافی ہے جو مسجد کو دینے میں پایا گیا، اس لیے شامی رحمہ اللہ نے غنی ملتقط کو ملی ہوئی رقم میت کے کفن دفن میں خرچ کرنے کو جائز لکھا ہے کیونکہ یہ رقم واجب التصدق ہے صدقہ واجبہ نہیں ۔ (شامی: ۲/۳۳۸، سعید) ۔
نیز حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے قبر پر لگے ہوے ان پتھروں کے بارے میں جن کا مالک معلوم نہیں تحریر فرمایا ہے کہ وہ بحکمِ لقطہ ہے اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ کسی نیک کام میں صرف کر دیا جائے ۔ (امداد الفتاویٰ: ۲/۵۸۷، بحوالہ فتاوی عثمانی: ۳/۱۳۲) ۔
چونکہ یہ رقم بھی بغیر خبث کے واجب التصدق ہے اس لیے اس کا خرچ کرنا بھی مسجد میں جائز ہونا چاہیے ۔
مسئلہ مذکورہ بالا کی مزید تفصیلات مع دلائل، جلدِ ششم، کتاب الاضحیہ کے تحت ذکر کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالی ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.