زکوٰۃ کی رقم نفع بخش کاروبار میں لگانے سے ادائیگی زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #106Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

زکوٰۃ کی رقم کو کسی نفع بخش کاروبار میں لگا کر اس کے منافع فقراء پر تقسیم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں چونکہ فقیر کی تملیک نہیں پائی گئی اور زکوٰۃ میں فقراء کی تملیک ضروری ہے لہذا یہ صورت جائز نہیں ہے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی، نیز اس میں درجِ ذیل خرابیاں بھی ہیں:
(۱) زکوٰۃ کو جلد از جلد سال کے اختتام سے پہلے تقسیم کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے جب کہ اس میں زکوٰۃ کا مال محبوس اور بند ہو گیا نیز ممکن ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد کارخانہ کے منتظمین کے ورثہ اس کو وراثت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیں۔ (۲) زکوٰۃ میں تملیک کا ضروری ہونا ایک بدیہی حقیقت ہے اور
﴿آتوا الزكاة﴾، أدوا زكاة أموالكم. (الترمذي: ۱/۱۳۳)
کے علاوہ فقہاء نے زکوٰۃ کے مال سے مسجد کی تعمیر، میت کی تکفین وغیرہ سے اس لیے منع فرمایا کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وقد أمر الله الملاك بإيتاء الزكاة لقوله عزوجل: ﴿وآتوا الزكاة﴾ والإيتاء هو التمليك، ولذا سمي الله تعالى الزكاة صدقة بقوله تعالى: ﴿إنما الصدقات للفقراء

﴾ والتصدق تمليك. (بدائع الصنائع: ۲/۳۹، سعيد).

فتح القدیر میں ہے:

ولا يبني بها مسجد ولا يكفن بها ميت، لانعدام التمليك وهو الركن فإن الله تعالى سماها صدقة، وحقيقة الصدقة تمليك المال من الفقير. (فتح القدير: ۲/۲٦۷، دار الفكر. وكذا في العناية شرح الهداية: ۲/۲٦۷، دار الفكر).

در مختار میں ہے:

وافتراضها عمري أي على التراخي، وصححه الباقاني وغيره، وقيل فوري أي واجب على الفور وعليه الفتوى، كما في شرح الوهبانية. (الدر المختار: ۲/۲۷۱، سعيد).

بہشتی زیور میں ہے:
جب مال پر سال گزر جائے تو فوراً زکوٰۃ ادا کر دے، نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں ۔ (بہشتی زیور: تیسرا حصہ: ۲۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو:
شامي: ۲/۳٤٤، سعيد. والفتاوى الهندية: ۱/۱۸۸. وتبيين الحقائق: ۱/۳۰۰. وكتاب الفتاوى: ۳/۳۰۰. وفتاوى رحيميه: ۲/۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.