وکیلِ زکوٰۃ سے رقم چوری ہو جانے پر ادائیگی کا حکم:
Question
ایک شخص نے دوسرے کو زکوٰۃ کی رقم دی اس وکیل سے رقم چوری ہو گئی تو زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ نیز اس وکیل پر تاوان آئے گا یا نہیں؟
Answer
مستحقین اگر متعین نہیں تھے بلکہ اپنی صواب دید پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا تھا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی دوبارہ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہے، اور وکیل امین ہوتا ہے اگر اس نے حفاظت میں کوتاہی نہیں کی تھی تو تاوان نہیں آئے گا اور نہ وکیل ذمہ دار ہو گا ۔ اور اگر مستحقین متعین تھے مثلاً وہ کسی ادارے کا سفیر یا مہتمم تھا تو اس کا حکم ذکر کیا جا چکا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
الإيداع شرعاً تسليط الغير على حفظ ماله صريحاً أو دلالة
. وهي أمانة، هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها، فلا تضمن بالهلاك. (الدر المختار: ۵/٦٦٤، سعيد، والفتاوى الهندية: ٤/۳۳۸).
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
رجل عزل زكاة ماله ووضعها في ناحية بيته، فسرقها سارق لا يقطع يده للشبهة وعليه أن يزكيها. (خلاصة الفتاوى: ۱/۲۳۸).
در مختار میں ہے:
ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء
وفي الشامي: فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۷۰، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۹/٤۸۰، مبوب و مرتب ۔ و کفایت المفتی: ٤/۲۹۷ ۔ و فتاوی فریدیہ: ۳/۲۷۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.