شفا خانہ کے لئے زکوٰۃ کی رقم لی تو چوری ہونے پر ادائیگی کا حکم:
Question
ایک شفا خانہ ہے اس میں زکوٰۃ کا ایک فنڈ ہے، اس میں دوائیاں خرید کر غریب بیماروں میں تقسیم کی جاتی ہیں، اگر اس مقصد کے لئے زکوٰۃ لی گئی اور وکیل سے ہلاک ہو گئی تو کیا زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟
Answer
عام طور پر ہسپتال سے استفادہ کرنے والے ہسپتال کے اطراف کے لوگ ہوتے ہیں جیسے مدرسہ میں اس مدرسہ کے طلبہ مراد ہیں تو ہسپتال کے مریض فقراء مراد ہیں لہذا زکوٰۃ ادا ہو گئی دوبارہ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم نہیں ہے ۔ یہ مسئلہ بعینہٖ سفیر مدرسہ والے مسئلہ کی طرح ہے اور اس کے دلائل ذکر کیے جا چکے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.