غیر ملکی کے لیے صدقۂ فطر کی قیمت لگانے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص پاکستان یا ہندوستان کا رہنے والا ساؤتھ افریقہ میں رہتا ہے تو وہ اپنے ملک کے حساب سے قیمت لگا کر صدقۂ فطر ادا کرے تو صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
غیر ملکی جو کہ ساؤتھ افریقہ میں قیام پذیر ہے اس کے لیے اپنے ملک کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ساؤتھ افریقہ ہی کے حساب سے قیمت لگا کر صدقۂ فطر ادا کرے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد رحمه الله: أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه قوله وهو الأصح، بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية كما في الشرنبلالية وهو المذهب كما في البحر فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدي عنه. (الشامي: ۲/۳۵۵، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
والمعتبر في الزكاة مكان المال في الروايات كلها وفي صدقة الفطر مكان الرأس المخرج عنه في الصحيح. (البحر الرائق: ۲/۲۵۰، باب المصرف، كوئته. وكذا في فتح القدير: ۲/۲۸۰، دار الفكر. والعناية علي هامش فتح القدير: ۲/۲۸۰، دار الفكر)
فتاوی دار العلوم میں ہے:
يعتبر قيمة البر في صدقة الفطر بقدر ما يكون في بلد المعطي لا ما يكون في المصر البعيد. (
فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۳۰٦، مدلل و مکمل) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
آپ کے یہاں میدہ کی خرید و فروخت بکثرت ہے تو خود میدہ یا اس کی قیمت دینا چاہیے، اگر چہ گیہوں سے زیادہ بیٹھے، ہندوستان سے گیہوں کا نرخ معلوم کر کے قیمت دینا کافی نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٦۲٤، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.