صدقۃ الفطر میں تاخیر کا حکم:
Question
ایک آدمی نے مجھے صدقۃ الفطر ادا کرنے کے لیے ایک چیک دیا میں بھول گیا، ابھی چند دن پہلے یاد آیا تو میں نے ادا کر دیا، کیا اس آدمی کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا ہو گیا یا نہیں؟
Answer
فقہاء کی تحریرات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ صدقۃ الفطر کو تاخیر سے ادا کرنے سے متعلق تین اقوال ہیں؛ (۱) متون اور ظاہر الروایہ کا قول یہ ہے کہ زندگی میں کسی بھی وقت ادا کرنے سے صدقۃ الفطر ادا ہو جائے گا اور یہ ادا ہی شمار ہوگا کیونکہ اس کا وجوب زکوٰۃ کی طرح ہے، ہاں مستحب یہ ہے کہ عیدالفطر کے دن عید گاہ جانے قبل ادا کر دیا جائے ۔ صاحبِ بدائع، علامہ شامی وغیرہ حضرات نے اسی کو ترجیح دی ہے بنا بریں اسی قول پر فتویٰ ہے ۔
(۲) امام حسن بن زیاد رحمه الله کے نزدیک عید الفطر کا دن گزر جانے سے ساقط ہو جاتا ہے جیسا کہ قربانی، ایامِ اضحیہ گزر جانے سے ساقط ہو جاتی ہے، یعنی اراقہ دم ساقط ہو جاتا ہے، محقق ابن ہمام رحمه الله نے فرمایا ہے کہ یہ قول درست نہیں ہے ۔
(۳) محقق ابن ہمام رحمه الله نے فرمایا کہ صدقۃ الفطر کی ادائیگی مطلق عن الوقت نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ مقید ہے، نبی کریم ﷺ کے فرمان کی وجہ سے: "
اغنوهم في هذا اليوم عن المسألة"
لہذا عیدالفطر کے دن کے بعد دے تو یہ قضا ہے، علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے بھی ابن ہمام رحمه الله کی موافقت کی ہے ۔ علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا کہ یہ تیسرا قول خارج عن المذہب ہے ۔
قال في الهداية: وإن أخروها عن يوم الفطر لم تسقط، وكان عليهم إخراجها، لأن وجه القربة فيها معقول، فلا يتقدر وقت الأداء فيها، بخلاف الأضحية.
قال في فتح القدير: قوله لأن وجه
الخ، وبه يبطل قول حسن بن زياد رحمه الله إنها تسقط كالأضحية بمضي يوم النحر، والفرق ظاهر من كلام المصنف. (الهداية مع فتح القدير: ۲/۲۹۹، دار الفكر).
قال في الدر المختار: تجب
موسعاً في العمر عند أصحابنا، وهو الصحيح، بحر عن البدائع معللاً بأن الأمر بأدائها مطلق كالزكاة على قول، كما مر، ولو مات فأداها وارثه جاز، وقيل مضيقاً في يوم الفطر عيناً، فبعده يكون قضاء، واختاره الكمال في تحريره، ورجحه في تنوير الأبصار، وفي الشامية: قوله هو الصحيح هو ما عليه المتون بقولهم، وصح لو قدم أو أخر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳۵۹، سعيد).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ۲/۷٤، سعيد، والبحر الرائق: ۲/۲۵۵، وعمدة الفقه: ۳ /۱٦۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.