پہلی رکعت میں نیت کرنے سے نماز کا حکم:
Question
ایک شخص نے ظہر کی نماز شروع کی، نیت کی طرف التفات نہیں رہا، دل میں بھی نہیں آیا کہ ظہر کی نماز ہے، پھر پہلی رکعت میں ظہر کی نیت کر لی، تو نماز ہوئی یا نہیں؟
Answer
فقہاء فرماتے ہیں کہ نیت کا محل ابتدائے صلوٰۃ ہے، نماز شروع کرنے کے بعد نماز کا ایک حصہ بلا نیت گزر چکا، اس لیے نماز درست نہیں ہونی چاہیے ۔ جیسا کہ فتاوی شامی وغیرہ میں مرقوم ہے ۔ لیکن صاحبِ فتاوی سراجیہ نے بعض فقہاء کا یہ فتویٰ نقل کیا ہے کہ اگر ابتدائے صلاۃ میں نیت کرنا بھول گیا، اور شروع کرنے کے بعد ثنا پڑھتے وقت یاد آیا اور نیت کر لی تو نماز صحیح ہے ۔ اس قول کی روشنی میں اگر کوئی شخص ذہنی پریشانی یا کسی اور عذر کی بنا پر شروع صلوٰۃ میں نیت نہ کر سکا، اور پہلی رکعت میں ثنا میں نیت کر لی تو نماز درست ہو جائے گی ۔ ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
والخامس: النية بالإجماع، وهي الإرادة المرجحة لا حد المتساويين
وجاز تقديمها على التكبيرة ولو قبل الوقت
ولا عبرة بنية متأخرة عنها على المذهب، وجوزه الكرخي رحمه الله إلى الركوع.
وفي الشامية: قوله ولا عبرة بنية متأخرة لأن الجزء الخالي عن النية لا يقع عبادة، فلا يبني الباقي عليه
حتى لو نوي عند قوله "الله" قبل أكبر لا يجوز، لأن الشروع يصح بقوله "الله" فكأنه نوى بعد التكبير حلية عن البدائع. قوله "جوزه الكرخي إلى الركوع" فيه أن الكرخي رحمه الله لم ينص على الركوع ولا غيره، وإنما اختلفوا في التخريج على قوله في أنه ينتهي إلى الثناء أو الركوع أو الرفع منه أو القعود. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۱/٤۱٤، ٤۱۷، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
تکبیر تحریمہ ختم ہونے سے پہلے نیت ضروری ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۳/۱۳) ۔
جواز کی دلیل ملاحظہ ہو فتاوی سراجیہ میں ہے:
إذا نسي نية الصلاة، ثم نوى الشروع حال قراءة الثناء يصح شروعه، وبه أفتي بعضهم. (الفتاوى السراجية على هامش فتاوى قاضيخان: ۱/٥).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.