پہلی رکعت میں فحش غلطی کی اصلاح دوسری رکعت میں کرنے سے نماز کا حکم:
Question
اگر امام نے پہلی رکعت میں فحش غلطی کی پھر دوسری رکعت میں مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے تصحیح کر لی تو نماز ہوئی یا نہیں؟ نیز تیسری یا چوتھی رکعت میں تصحیح کر لے تو کیا حکم ہے؟
Answer
فحش غلطی کے بعد تصحیح کرنے سے نماز درست ہو جاتی ہے اگر چہ دوسری یا تیسری یا چوتھی رکعت میں تصحیح کرے اس لیے کہ پوری نماز ایک مجلس کی طرح ہے اگر پہلی رکعت میں قراءت نہیں کی تو تیسری رکعت میں کر سکتا ہے، اسی طرح پہلی رکعت میں واجب چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو سے تلافی اخیر میں ہے، نیز نماز کا کوئی سجدہ بھول جائے تو آخری رکعت میں ہو سکتا ہے لہذا قراءت کی تصحیح بھی دیگر رکعات میں ہو سکتی ہے۔
ملاحظہ ہو طحطاوی میں ہے:
وفي المضمرات: قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم أعاد وقرأ صحيحاً فصلاته جائزة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٦۷، باب ما يفسد الصلاة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ذكر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحيحاً قال: عندي صلاته جائزة. (الفتاوى الهندية: ۱/۸۲، في زلة القاري)
امداد الفتاح میں ہے:
روي أن عمر رضي الله عنه ترك القراءة في ركعة من المغرب فقضاها في الثالثة. (إمداد الفتاح: ص ۲۷٦، فصل في واجبات الصلاة)
در مختار میں ہے:
ولو تذكر في ركوعه أو سجوده أنه ترك سجدة صلبية أو تلاوية فسجدها أعادهما ندباً
وفي الشامية: (قوله فسجدها) أفاد أن سجودها عقب التذكر غير واجب لما في البحر عن الفتح: له أن يقضي السجدة المتروكة عقب التذكر، وله أن يؤخرها إلى آخر الصلاة فيقضيها هناك. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٦۱۲، باب الاستخلاف)
فتاوی قاضيخان میں ہے:
المصلي إذا نسي سجدة التلاوة في موضعها ثم ذكرها في الركوع أوفي السجود أوفي القعود فإنه يخر لها ساجداً ثم يعود إلى ما كان فيه فيعيده استحساناً وإن لم يعد جازت صلاته وإن أخرها إلى آخر صلاته أجزأه لأن الصلاة واحدة. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱۲۷، فصل فيما يوجب السهو وما لا يوجب السهو).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.