غلط پڑھ کر فوراً تصحیح کر لینے سے نماز کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #129Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۵): قراءت و تجوید اور قاری کی لغزشوں کا بیان

Question

ایک شخص نے نماز میں غلط قراءت کی پھر اسی وقت تصحیح کر لی تو نماز ہوئی یا نہیں؟

Answer

نماز میں غلط پڑھ کر تصحیح کر لینے سے نماز ہو جاتی ہے۔
ملاحظہ ہو طحطاوی میں ہے:

وفي المضمرات: قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم أعاد وقرأ صحيحاً فصلاته جائزة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٦۷، باب ما يفسد الصلاة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ذكر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحيحاً قال: عندي صلاته جائزة. (الفتاوى الهندية: ۱/۸۲، في زلة القاري)

نیز ملاحظہ ہو: امداد الفتاوی: ۱/۱٦۸، باب القراءۃ، دار العلوم کراچی۔ و امداد المفتین: جلد دوم ص ۳۵۷۔ و فتاوی حقانیہ: ۳/ ۱۷۷، باب القراءۃ۔ و فتاوی رحیمیہ: ٤/۳۰۹ باب صفۃ القراءۃ، مکتبہ رحیمیہ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.