خلافِ ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
ایک امام نے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون پڑھی پھر دوسری رکعت میں سورۂ کوثر پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟ اگر سورۂ کوثر شروع کرنے کے بعد چھوڑ کر دوسری سورت پڑھنا چاہے تو کیا حکم ہے؟ اسی طرح نماز میں خلافِ ترتیب قراءت کرنے سے سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟
Answer
بھول سے خلافِ ترتیب قراءت کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے نماز صحیح ہو گئی، لیکن سورت شروع کرنے کے بعد اس کو چھوڑنا مکروہ ہے، نیز نماز میں خلافِ ترتیب قراءت کرنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا ۔ البتہ قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ويكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوسا إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة، وفي القنية: قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية ألم تر أو تبت ثم ذكريتم
وفي الشامية: أفاد أن التنكيس أو الفصل بالقصيرة إنما يكره إذا كان عن قصد فلو سهواً فلاكما في شرح المنية، وإذا انتفت الكراهة فإعراضه عن التي شرع فيها لا ينبغي، وفي الخلاصة: افتتح سورة وقصده سورة أخري فلما قرأ آية أو آيتين أراد أن يترك تلك السورة ويفتتح التي أراد ها يكره، وفي الفتح: ولوكان المقروء حرفاً واحداً. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٥٤٦، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸۹، الفصل الرابع في القراءة)
امداد الفتاح میں ہے:
وكذا لا يكره لو أراد أن يقرأ غير التي قرأها في الأولى فافتتحها فلما قرأ منها آية أو آيتين تذكر فأراد أن يتركها ويفتح السورة التي أرادها يكره ذلك لقوله ﷺ "إذا افتتحت سورة فاقرأها على نحوها" كذا في التجنيس والمزيد، ووجه الكراهة عدم وروده،
ويكره قراءة سورة فوق التي قرأها لما فيه من قلب التلاوة، وقال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه "من قرأ القرآن منكوساً فهو منكوس" كذا في التجنيس. (إمداد الفتاح: ص ۳۸۱، فصل فيما يكره في الصلاة)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
قرآن مجید کو الٹا پڑھنا یعنی ایک رکعت میں ایک سورۃ مثلا سورۃ الاخلاص پڑھی اور دوسری رکعت میں یا اسی رکعت میں اس سے اوپر کی سورۃ یعنی تبت یدا پڑھی تو مکروہ ہے، خواہ نماز کے اندر ہو یا باہر اس لیے کہ سورتوں کی ترتیب تلاوت کے واجبات میں سے ہے لیکن اگر بھولے سے ایسا ہو جائے تو مکروہ نہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۱۱۹، کتاب الصلوۃ، چوتھی فصل قراءت کا بیان، مجددیہ)
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی ۳/٤٤۳ مسائل زلۃ القاری، امداد الفتاوی ۱/۱۷۰ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.