صبح کو مشرق میں اور شام کو مغرب میں چاند نظر آنا ممکن نہیں:
Question
علامہ شامی رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی علاقہ میں صبح کو بجانب مشرق طلوع آفتاب سے پہلے، اور شام کو بجانب مغرب چاند نظر آئے، آج کل بعض علاقوں میں بھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم نے صبح کو بھی چاند دیکھا اور شام کو غروب کے بعد بھی دیکھا، کیا ایسا ممکن ہے؟ علامہ شامی رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
وأما إذا رؤي يوم التاسع والعشرين قبل الشمس ثم رؤي ليلة الثلاثين بعد الغروب، وشهدت بينة شرعية بذلك، فإن الحاكم يحكم برؤيته ليلاً كما هو نص الحديث، ولا يلتفت إلى قول المنجمين إنه لا تمكن رؤيته صباحاً ثم مساءً في يوم واحد كما قدمناه عن فتاوى الشمس الرملي الشافعي. (فتاوى الشامي: ۲/۳۹۲، مطلب في رؤية الهلال نهاراً، سعيد)؟
Answer
قدیم اور جدید ماہرین فلکیات اور مفسرین کے اقوال اور تجربہ کی روشنی میں یہ ممکن نہیں کہ صبح کو شرقاً اور شام کو غرباً چاند نظر آئے، کیوں کہ چاند کم سے کم دو دن ضرور چھپتا ہے، چنانچہ علم حدیث و فقہ کے ساتھ ساتھ فلکیات کے ماہر مفتی بغداد علامہ آلوسی رحمه الله فرماتے ہیں:
فبقي ثمانية وعشرون وهو زمان ما بين أول ظهوره بالعشيات مستهلا أول الشهر، وآخر رؤيته بالغدوات مستتراً آخره. (روح المعاني: ۲۳/۱٦، سورة يسٓ).
یعنی ۲۸ دن کے علاوہ دو دن چاند کے چھپنے سے لے کر ظاہر ہونے تک ہیں ۔
نیز جلالین کے حاشیہ میں بحوالہ کمالین مذکور ہے کہ چاند دو دن چھپتا ہے اور کبھی کبھی تین دن ۔
ملاحظہ ہو جلالین میں ہے:
هو الذي جعل الشمس ضياء وقدره منازل منازل ثمانية وعشرين منزلاً في ثمان وعشرين ليلة من كل شهر، ويستتر ليلتين إن كان الشهر ثلاثين يوماً وليلة إن كان تسعة وعشرين يوماً.
اس عبارت کے تحت حاشیہ میں مذکور ہے:
تبع في ذلك الشيخ البغوي لكن ذلك خلاف المشاهدة
یعنی علامہ سیوطی رحمه الله نے امام بغوی رحمه الله کی اتباع میں یہ لکھا ورنہ در حقیقت چاند دو دن چھپتا ہے جب مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور تین دن جب کہ ۳۰ دن کا مہینہ ہو، چنانچہ آخر میں لکھتے ہیں:
وأقل ما يخفي ولا يري صباحاً ولا مساءً ليلتان، وأكثره ثلاث ليال. (جلالين مع الحاشية: ۲/۱۷۰، رقم الحاشية: ۲۳).
نیز حدیث شریف میں ہے:
عن عمران بن حصين رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال لرجل: هل صمت من سرر هذا الشهر (أي شعبان) شيئاً فقال: لا، قال: فقال له: إذا أفطرت رمضان فصم يوماً أو يومين. (رواه مسلم: ۱/۳٦۸).
رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے دریافت فرمایا کہ: آپ نے شعبان کے آخر میں جن میں چاند چھپتا ہے روزے رکھے؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: جب رمضان ختم ہو تو ایک یا دو دن روزے رکھ لینا ۔
امام نووی رحمه الله نے شرح مسلم میں اوزاعی رحمه الله، ابو عبید رحمه الله اور دیگر بہت سارے علماء کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اس سے مراد مہینہ کا آخری حصہ ہے ۔
قال النووي رحمه الله: سرر ويقال أيضاً سَرار وسِرار بفتح السين وكسرها، وكله من الاستسرار. قال الأوزاعي رحمه الله وأبو عبيد رحمه الله وجمهور العلماء من أهل اللغة والحديث: المراد بالسرر آخر الشهر، سميت بذلك لاستسرار القمر فيها، قال البيهقي في السنن الكبرى بعد أن روى الروايتين عن الأوزاعي: الصحيح آخره،
قال القاضي: والأشهر أن المراد آخر الشهر كما قاله أبو عبد الله رحمه الله والأكثرون. (شرح مسلم شريف: ۱/۳٦۸).
ان عبارات اور حوالہ جات کی روشنی میں علامہ شامی رحمه الله کی بات سمجھ میں نہیں آتی، ممکن ہے کہ ہمارے صوابی مردان اور چار سدہ یا سعودی عرب کی طرح شام میں بھی یہ بات مشہور ہو، یا ہو سکتا ہے کہ شمس رملی کی اتباع میں یہ بات فرمائی ہو، لیکن حقیقت وہی ہے جو ذکر کی گئی ۔
نیز اس مسئلہ کی کچھ تفصیل محترم عبد المنعم صاحب نے اپنی رسالہ "اعدل الاقوال" میں ذکر فرمائی ہے ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
جس روز مشرق کی طرف بوقت صبح چاند نظر آئے، اس روز بلکہ اس سے ایک روز بعد رؤیت ہلال محال ہے کیوں کہ ان ایام میں غروب شمس قبل ہی قمر غروب ہو جاتا ہے، اور حکومتِ سعودیہ میں بسا اوقات خود اسی روز ہی رؤیت کا اعلان ہو جاتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/٤۱۷) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ صاحبِ جلالین کے قول کے مطابق چاند کا ایک دن کم از کم چھپنا ضروری ہے اور صاحب کمالین اور علامہ آلوسی کے قول کے مطابق دو دن چھپنا ضروری ہے، لہذا صبح کو مشرق میں اور شام کو مغرب میں چاند کی رؤیت ناممکن ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.