صبح صادق کے بعد بیوی سے الگ ہونے پر روزہ کا حکم:
Question
ایک شخص نے سحری کے وقت ہم بستری کی اور اسی حالت میں شوہر بیوی سو گئے، صبح صادق کے بعد دونوں کی آنکھ کھلی تو فی الفور الگ ہو گئے، اب ان دونوں کا روزہ فاسد ہوا یا نہیں؟ ان پر قضا اور کفارہ ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں دونوں کا روزہ فاسد نہیں ہوا، کیوں کہ صبح صادق کے بعد جماع نہیں پایا گیا، لہذا ان پر قضا اور کفارہ لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:
الجماع إدخال الفرج بالفرج ولا دوام للإدخال بخلاف ما إذا أخرج ثم أولج. (الهداية: ۲/ ۳۸۹، كتاب الطلاق).
البحر الرائق میں ہے:
الجماع هو إدخال الفرج بالفرج وليس له دوام حتى يكون لدوامه حكم ابتدائه، كمن حلف لا يدخل هذه الدار وهو فيها لا يحنث باللبث. (البحر الرائق: ٤/ ۳۵، باب التعليق، كوئته).
ولو جامع عامداً قبل الفجر وطلع وجب النزع في الحال فإن حرك نفسه فعليه الكفارة. (البحر الرائق: ۲/ ۲۷۱، كوئته).
بحر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر فی الحال عضو مخصوص نکالا تو قضا نہیں ۔
ولو بدأ بالجماع ناسياً فتذكر إن نزع من ساعته لم يفطر وإن دام على ذلك حتى أنزل فعليه القضاء. (البحر الرائق: ۲/ ۲۷۱، كوئته).
چونکہ نسیان جماع قبل الفجر کے مشابہ ہے اور دونوں مفسد نہیں، تو نسیان کی صورت میں جب فی الفور عضو مخصوص الگ کرے تو قضا نہیں لہذا ادخال قبل الفجر میں بھی قضا نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن بدأ بالجماع ناسياً وأولج قبل الفجر ثم طلع الفجر أو تذكر الناسي إن نزع في فوره لا يفسد صومه في الصحيح. (الفتاوى الهندية: ۱/ ۲۰٤).
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ایلاج قبل الفجر اور اخراج بعد الفجر میں نسیان کی صورت میں روزہ فاسد نہیں ہوا یعنی قضا نہیں ۔
لیکن مراقی الفلاح کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ نائم ن اسی کے حکم میں نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قال: أو صب أحد في جوفه وهو أي صائم نائم لوصول المفطر إلى جوفه كما لو شرب وهو نائم وليس كالناسي لأنه تؤكل ذبيحته وذاهب العقل والنائم لا تؤكل ذبيحتهما. (مراقي الفلاح: ص ۲٤۵، باب ما يفسد الصوم من غير كفارة، بيروت).
لیکن اس کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ کھانے پینے کے بارے میں نائم ن اسی کی طرح نہیں ہے کیوں کہ کھانے کا دوام ابتداء کے حکم میں ہے، بخلاف جماع کہ اس کے دوام کو ابتداء یعنی ادخال کا حکم نہیں ۔
نیز فتاوی واحدی میں بھی یہ مسئلہ تحریر شدہ ہے کہ اس صورت میں قضا اور کفارہ دونوں واجب نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں:
الظاهر أنه لا كفارة عليه لعدم تحقق الجماع وهو إدخال الفرج بالفرج بعد طلوع الفجر، قال في الهداية: الجماع إدخال الفرج بالفجر وليس له دوام حتى يكون لدوامه حكم ابتدائه
فذلك لا يجب القضاء بالنزع بعد الانتباه من النوم لأن المفسد هو الجماع ولم يوجد في النزع بعد الانتباه. (فتاوى الواحدي: جلد اول: ۳۲٤، كتاب الصوم).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.